اعتماد کا بحران: سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کی تصاویر جاری کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا دیا
بھارت کے معروف ماحولیاتی کارکن اور لداخ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے سونم وانگچک نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی حکومت کے وزرا نے ان کے ساتھ کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی کی، جب ان کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لمحات کی تصاویر جاری کی گئیں۔
وانگچک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ان کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے دوران بنائی گئی تصاویر جاری نہیں کی جائیں گی، لیکن بعد میں یہ تصاویر سامنے آ گئیں جس سے ان کا اعتماد متاثر ہوا۔
سونم وانگچک نے کہا کہ ان کی بھوک ہڑتال کا مقصد ذاتی تشہیر نہیں بلکہ لداخ کے لوگوں کے آئینی، ماحولیاتی اور سیاسی مطالبات کو اجاگر کرنا تھا۔
لداخ کو ریاست کا درجہ دینے، مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور علاقے کے ماحولیاتی مستقبل سے متعلق مطالبات گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ وانگچک اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ تیزی سے بڑھتی ترقیاتی سرگرمیاں لداخ کے نازک ماحولیاتی نظام پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
حکومت کی طرف سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اور مختلف اوقات میں لداخ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت بھی ہوئی ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔
وانگچک کے مطابق بھوک ہڑتال ختم کرنے کے موقع پر تصاویر نہ جاری کرنے کا وعدہ اس لیے اہم تھا کیونکہ وہ اسے ایک حساس سیاسی مرحلہ سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وعدہ پورا نہ ہونے سے مذاکرات کے ماحول کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ لداخ سے متعلق معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری ہے اور علاقے کی ترقی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سونم وانگچک کا معاملہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ بھارت میں عوامی تحریکوں، حکومت اور سماجی کارکنوں کے درمیان اعتماد کیسے قائم رکھا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ماحولیات اور مقامی حقوق جیسے معاملات پر عوامی حساسیت بڑھ رہی ہے





