پانچ اگست: جب ایک آئین نہیں، ایک عہد قتل ہوا
(تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری)
قوموں کی تاریخ میں کچھ تاریخیں ایسی ہوتی ہیں جو محض کیلنڈر کے اوراق پر درج نہیں ہوتیں بلکہ اجتماعی شعور پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں۔ پانچ اگست 2019 بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ یہ صرف ایک آئینی اقدام، ایک انتظامی فیصلہ یا ایک سیاسی تنازع نہیں تھا؛ یہ طاقت کے غرور کا وہ اعلان تھا جس نے قانون، اخلاق، بین الاقوامی اصولوں اور انسانی ضمیر کو ایک ہی ضرب میں زخمی کر دیا۔
چار اگست کی شام جب سورج سرینگر کے پہاڑوں کے پیچھے ڈوب رہا تھا تو وادی پر ایک غیر معمولی خاموشی اتر رہی تھی۔ مگر یہ خاموشی امن کی نہیں تھی؛ یہ خوف کی خاموشی تھی، وہ خاموشی جو جیلوں کی کوٹھڑیوں، عقوبت خانوں اور مقبوضہ سرزمینوں کا مقدر بن جاتی ہے۔ رات گہری ہوئی تو ٹیلی فون خاموش ہو گئے، انٹرنیٹ کی نبض کاٹ دی گئی، اخبارات بے زبان کر دیے گئے اور سیاسی قیادت کو گھروں سے اٹھا لیا گیا۔ جب پانچ اگست کی صبح طلوع ہوئی تو سورج کی پہلی کرن ایک ایسی وادی پر پڑ رہی تھی جسے دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کیا جا چکا تھا۔
بھارت نے اس روز صرف آئین کی چند دفعات منسوخ نہیں کیں؛ اس نے اپنے ہی آئینی وعدوں کی تدفین کر دی۔ اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بے معنی قرار دیا، جنیوا کنونشن کی روح کو پامال کیا اور اس وعدے سے انکار کر دیا جو اس نے خود دنیا کے سامنے کشمیری عوام سے کیا تھا۔ آئین جب انصاف کی بجائے طاقت کا آلہ بن جائے تو وہ قانون نہیں رہتا، جبر کا پروانہ بن جاتا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ پانچ اگست 2019 سے شروع نہیں ہوتا۔ اس کی جڑیں برصغیر کی تقسیم کے ان نامکمل فیصلوں میں پیوست ہیں جہاں ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ جواہر لعل نہرو نے عالمی برادری کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کی خواہش ہی کشمیر کا مستقبل طے کرے گی۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں نے اسی اصول کو بین الاقوامی قانونی حیثیت عطا کی، مگر اقتدار کی سیاست اکثر اپنے وعدوں سے زیادہ اپنی مصلحتوں کی وفادار ہوتی ہے۔ یوں استصوابِ رائے ایک وعدہ نہیں، ایک التوا بن گیا، اور پھر ایک فراموش شدہ سچ۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی “شہ رگ” کہا تھا۔ بعض لوگ اسے صرف ایک سیاسی استعارہ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ شہ رگ کا تعلق صرف جسم سے نہیں، بقا سے ہوتا ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں سے یہی شہ رگ مسلسل خون آلود ہے، اور پانچ اگست کو اسے قانونی الفاظ کی اوٹ میں ہمیشہ کے لیے کاٹ دینے کی کوشش کی گئی۔
اگر اس واقعے کو خالص قانونی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ایک غیر معمولی آئینی تضاد تھا۔ جس ریاستی اسمبلی کی منظوری اس اقدام کے لیے لازمی تھی، وہ پہلے ہی تحلیل کی جا چکی تھی۔ اس کی جگہ ایک غیر منتخب گورنر کو نمائندہ بنا کر ریاست کی آئینی حیثیت بدل دی گئی۔ وفاقی ریاست کو دو وفاقی زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ قانون کی زبان میں اسے آئینی ترمیم کہا گیا، مگر انصاف کی عدالت میں یہ ایک متنازعہ علاقے کی یک طرفہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔
لیکن اصل سانحہ آئینی متن میں نہیں، اس کے بعد کی زمینی حقیقت میں پوشیدہ ہے۔
طویل ترین انٹرنیٹ بندش، ہزاروں سیاسی کارکنوں، صحافیوں، وکلاء اور نوجوانوں کی گرفتاریاں، لاکھوں فوجیوں کی موجودگی، اظہارِ رائے پر پابندیاں، اخبارات پر قدغنیں اور خوف کا ایسا نظام جس میں سچ بولنا بغاوت اور آنسو بہانا جرم قرار پایا۔ فیض احمد فیض نے شاید ایسے ہی حالات کے لیے کہا تھا:
“بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…”
مگر کشمیر میں تو لب بھی مقفل ہیں اور زبان بھی پابندِ سلاسل۔
اس کے بعد نافذ کیے جانے والے ڈومیسائل اور اراضی کے قوانین نے اس اندیشے کو مزید گہرا کر دیا کہ مسئلہ صرف سیاسی اختیار کا نہیں بلکہ کشمیری شناخت کا بھی ہے۔ جب آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، زمین کی ملکیت بدلنے اور انتخابی نقشہ ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کی جائے تو سوال صرف انتظامی نہیں رہتا؛ وہ تہذیبی اور قومی وجود کا سوال بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کشمیر اور دنیا کے دیگر مقبوضہ خطوں کے درمیان مماثلتیں خود بخود نمایاں ہونے لگتی ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ عالمی سیاست کا ترازو ہمیشہ انصاف کے وزن سے نہیں جھکتا۔ واشنگٹن، لندن، پیرس اور برسلز میں انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے سنائی دیے، چند بیانات جاری ہوئے، تشویش کا اظہار کیا گیا، مگر اس کے بعد اسلحے کے سودے، تجارتی مفادات اور سفارتی مصلحتیں پہلے کی طرح جاری رہیں۔ جب مفادات انصاف پر غالب آ جائیں تو خاموشی غیر جانبداری نہیں رہتی، بلکہ ظلم کی خاموش تائید بن جاتی ہے۔
مگر تاریخ کا ایک سبق کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ طاقت سلطنتیں بنا سکتی ہے، دلوں پر حکومت نہیں کر سکتی۔ فوجیں زمین پر قبضہ کر سکتی ہیں، مگر قوموں کے اجتماعی شعور کو غلام نہیں بنا سکتیں۔ سات دہائیوں کے بعد بھی کشمیری عوام کا مطالبہ وہی ہے جو 1947 میں تھا: اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے بندوقیں خاموش نہیں کرا سکیں، جیلیں دفن نہیں کر سکیں اور آئینی ترامیم مٹا نہیں سکیں۔
یومِ استحصالِ کشمیر محض ایک احتجاجی دن نہیں، عالمی ضمیر کے احتساب کا دن ہے۔ یہ سوال کرتا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی قراردادیں نافذ نہیں ہوتیں تو پھر بین الاقوامی قانون کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اگر حقِ خودارادیت ایک عالمگیر اصول ہے تو کشمیر اس سے مستثنیٰ کیوں؟ اگر انسانی حقوق واقعی آفاقی ہیں تو ان کا اطلاق جغرافیہ اور معاشی مفادات کے تابع کیوں ہے؟
پاکستان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے ہے: کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف کشمیری عوام کی آزادانہ رائے سے ممکن ہے۔ یہ صرف پاکستان کی سفارتی پوزیشن نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ اصولوں کا تقاضا بھی ہے۔ جنوبی ایشیا کا امن اسی انصاف سے وابستہ ہے، نہ کہ طاقت کے توازن سے۔
بھارت آئین کی دفعات بدل سکتا ہے، انتظامی نقشے تبدیل کر سکتا ہے اور وقتی حقائق مسلط کر سکتا ہے، مگر وہ تاریخ کو دوبارہ نہیں لکھ سکتا۔ قوموں کی یادداشتیں سرکاری گزٹوں سے نہیں ملتیں، قربانیوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ کشمیر ایک متنازعہ خطہ نہیں، ایک ادھورا وعدہ ہے؛ ایسا وعدہ جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں نے قلم بند کیا، جسے لاکھوں کشمیریوں نے اپنے خون سے محفوظ رکھا اور جسے وقت کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکی۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت نہیں کرتی، صداقت کرتی ہے۔ اور صداقت یہ ہے کہ وعدے کبھی مرتے نہیں؛ وہ نسلوں تک اپنا تقاضا زندہ رکھتے ہیں۔
پانچ اگست اسی ادھورے وعدے کی یاد ہے—اور جب تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوتا، تاریخ کا مقدمہ بھی ختم نہیں ہوگا۔





