امریکی اپیل عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو جھٹکا، اربوں ڈالر کے موسمیاتی فنڈز کی منسوخی غیرقانونی قرار
امریکہ کی وفاقی اپیل عدالت نے منقسم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے صاف توانائی کے منصوبوں کے لیے مختص اربوں ڈالر کے فنڈز غیرقانونی طور پر منسوخ کیے۔ یہ فیصلہ ان غیر منافع بخش اداروں کے حق میں آیا ہے جنہیں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں “گرین ہاؤس گیس میں کمی فنڈ” چلانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
تاہم عدالت نے حکم پر چند روز کے لیے عملدرآمد روک دیا ہے تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا موقع مل سکے۔ اس دوران متعلقہ اداروں کو فوری طور پر فنڈز تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
یہ مقدمہ ٹرمپ انتظامیہ کی ان ابتدائی کوششوں میں ایک اہم قانونی ناکامی سمجھا جا رہا ہے جن کا مقصد بائیڈن دور کی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی پالیسیوں کو ختم کرنا تھا۔ کانگریس کی منظوری سے قائم کیے گئے 20 ارب ڈالر کے اس پروگرام کے تحت غیر منافع بخش ادارے چھوٹے صاف توانائی منصوبوں، توانائی بچانے والی عمارتوں اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لیے قرضے اور سرمایہ کاری فراہم کرتے تھے۔
ای پی اے کے سربراہ لی زیلڈن نے ان اداروں پر بدانتظامی اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے سٹی بینک میں موجود اربوں ڈالر منجمد کر دیے تھے اور بعد ازاں ان کی گرانٹس بھی ختم کر دی تھیں۔ تاہم اپیل عدالت نے قرار دیا کہ یہ اقدام قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا





