بحیرۂ احمر کی جنگ: کیا پاکستان یا 43 ممالک کا اتحاد حوثیوں کو روک سکے گا؟

بحیرۂ احمر کی جنگ: کیا پاکستان یا 43 ممالک کا اتحاد حوثیوں کو روک سکے گا؟

بحیرۂ احمر میں بڑھتی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب نے حوثی حملوں اور سمندری راستوں کے خطرات کے مقابلے کے لیے 43 ممالک پر مشتمل ایک بحری اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

اس اتحاد میں پاکستان سمیت متعدد ممالک کی حمایت سامنے آئی ہے۔ تاہم اس صورتحال نے اسلام آباد کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی اور سیکیورٹی چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات پہلے ہی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک نے اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے کی بات کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی اور دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں ہزاروں پاکستانی اہلکاروں، طیاروں اور دفاعی نظام کی تعیناتی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم اس تعیناتی کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر حوثیوں کے خلاف یہ محاذ وسیع ہوتا ہے تو پاکستان کا کردار کیا ہوگا؟ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی وعدوں کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ کشیدگی سے بچنے اور خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ حوثی تحریک کو ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے، جبکہ سعودی عرب خطے میں اپنے سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے کسی بھی فوجی اقدام کے وسیع علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم ساتھ ہی مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔

بحیرۂ احمر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اگر یہ بحران بڑھتا ہے تو اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر پڑ سکتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی قیادت میں بننے والا یہ اتحاد صرف دفاعی اقدام ثابت ہوتا ہے یا خطے میں ایک نئے فوجی تصادم کا دروازہ کھولتا ہے، اور پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال میں کس حد تک اپنا توازن برقرار رکھ پاتا ہے

قومی خبریں سے مزید