5 لاکھ امریکیوں کے مطالعے میں گھر سے کام کرنے کے حیران کن اثرات سامنے آگئے

5 لاکھ امریکیوں کے مطالعے میں گھر سے کام کرنے کے حیران کن اثرات سامنے آگئے

گھر سے کام کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر 5 لاکھ امریکیوں کے ایک بڑے مطالعے نے ان فوائد اور ممکنہ نقصانات کو اجاگر کیا ہے جو روایتی دفتری نظام سے مختلف ہیں۔

مطالعے کے مطابق گھر سے کام کرنے والوں کو روزانہ دفتر آنے جانے کے سفر سے نجات ملتی ہے، جس سے وقت، ایندھن اور سفری اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔ خاص طور پر ایسے والدین جن کے چھوٹے بچے ہیں، انہیں گھر سے کام کرنے کی وجہ سے خاندان کے لیے زیادہ وقت میسر آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دور سے کام کرنے کے باعث بہت سے افراد نے اپنی زندگی اور کام کے درمیان توازن بہتر محسوس کیا ہے، جبکہ لباس، سفر اور روزمرہ کے دفتری اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔

تاہم تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ گھر سے کام کرنے کے کچھ غیر متوقع اثرات ہو سکتے ہیں۔ بعض افراد کے لیے دفتر سے دوری سماجی رابطوں میں کمی، تنہائی کے احساس اور پیشہ ورانہ تعلقات متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں کام کا نظام مکمل طور پر دفتر یا مکمل طور پر گھر تک محدود رہنے کے بجائے ممکنہ طور پر ایسے ہائبرڈ ماڈل کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں ملازمین کو دونوں طریقوں کے فوائد حاصل ہوں

قومی خبریں سے مزید