بھارت:ایف ایس ایس اے آئی کا ڈابر پر کریک ڈاؤن، شہد اور گھی سمیت کئی مصنوعات پر ’’100 فیصد خالص‘‘ کے دعوے روکنے کا حکم
بھارت کے فوڈ سیفٹی ریگولیٹر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے ڈابر انڈیا کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسی غذائی مصنوعات کی فروخت فوری طور پر روک دے جن پر ’’100 فیصد خالص‘‘، ’’100 فیصد قدرتی‘‘ یا ’’100 فیصد نامیاتی‘‘ ہونے کے دعوے کیے گئے ہیں۔
ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق ڈابر کی ویب سائٹ پر موجود بعض مصنوعات، جن میں شہد، گائے کا گھی، ایپل سائڈر سرکہ، ناریل کا تیل، تل کا تیل، ناریل کا پانی اور ناریل کا دودھ شامل ہیں، ایسے دعووں کے ساتھ فروخت کی جا رہی تھیں جن کی تصدیق ممکن نہیں تھی اور جو صارفین کو گمراہ کر سکتے تھے۔
ریگولیٹر نے کہا کہ ’’100 فیصد‘‘ جیسے دعوے فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت مبہم اور ناقابل تصدیق ہیں۔ ایف ایس ایس اے آئی نے یہ بھی اعتراض اٹھایا کہ بعض مصنوعات پر نامیاتی خوراک کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والا ’’جیویک بھارت‘‘ نشان درست منظوری کے بغیر دکھایا گیا۔
ایف ایس ایس اے آئی کا کہنا ہے کہ ڈابر کو اس معاملے پر پہلے بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم اطمینان بخش اصلاحی کارروائی نہ ہونے کے بعد فروخت روکنے کا حکم دیا گیا۔ کمپنی کو 15 دن کے اندر اپنی کارروائی کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈابر نے کہا ہے کہ اسے ایف ایس ایس اے آئی کا نوٹس موصول ہو گیا ہے اور کمپنی اپنی ویب سائٹ پر موجود مواد کا جائزہ لے رہی ہے۔
یہ کارروائی بھارت میں پیک شدہ خوراک کی مارکیٹنگ اور صارفین کو دیے جانے والے معیار سے متعلق دعووں کی بڑھتی ہوئی نگرانی کی نشاندہی کرتی ہے۔





