کراچی میں خناق اور خسرہ سے 144 بچوں کی اموات، ویکسینیشن کی صورتحال پر تشویش
کراچی: رواں سال جنوری سے اب تک کراچی میں خناق اور خسرہ کے باعث کم از کم 144 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس نے بچوں کی صحت اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام اور طبی ماہرین کے مطابق خناق اور خسرہ جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین موجود ہے، لیکن کمزور حفاظتی ٹیکہ کاری، آگاہی کی کمی اور بعض علاقوں میں صحت کی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث بچے ان بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ خناق ایک خطرناک بیماری ہے جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ خسرہ بھی کم عمر بچوں میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
صحت کے ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ویکسینیشن مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے مکمل نہیں مل پاتے۔
حکام کے مطابق بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسینیشن کا شیڈول مکمل کروائیں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں





