کینیڈا کی حکومت اور صنعتوں کا امریکی 25 فیصد ٹیرف پر ردِعمل، سخت پیغام دینے کا عزم
اوٹاوا: کینیڈا کی حکومت اور مختلف صنعتی شعبوں نے امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد کیے گئے نئے 25 فیصد ٹیرف کے اعلان پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملکی کارکنوں اور کاروباروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے۔
وفاقی کابینہ کے ارکان نے کہا ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ ملک اپنی معیشت اور صنعتوں کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر جوابی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
کینیڈین صنعتوں کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ نئے ٹیرف سے کاروباری لاگت، سپلائی چین اور روزگار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اونٹاریو چیمبر آف کامرس نے کہا کہ تجارتی کشیدگی سے کاروباروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور اس کے اثرات دونوں ممالک کے کارکنوں اور صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھے گا، لیکن اگر نئے ٹیرف نافذ ہوئے تو حکومت کے پاس جوابی اقدامات کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق نئے محصولات کا اثر کینیڈا کی تمام برآمدات پر یکساں نہیں ہوگا، تاہم بعض مخصوص شعبے، خصوصاً وہ صنعتیں جو امریکی مارکیٹ پر زیادہ انحصار کرتی ہیں، زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔





