غزہ میں خونریزی جاری، فلسطینیوں نے ٹرمپ کے امن منصوبے کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دے دیا

غزہ میں خونریزی جاری، فلسطینیوں نے ٹرمپ کے امن منصوبے کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دے دیا

غزہ: غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں پیش رفت کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، کیونکہ اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں اور حالیہ فضائی کارروائیوں میں 18 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جو گزشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے بعد مہلک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ غزہ امن منصوبے پر ایک “بڑی پیش رفت” ہوئی ہے، جس کے تحت حماس مرحلہ وار غیر مسلح ہوگی اور اسرائیلی فوج بتدریج غزہ سے انخلا کرے گی۔ تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی فوج اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلے گی جب تک حماس مکمل طور پر ہتھیار نہ ڈال دے اور اپنی سرنگوں کا نیٹ ورک ختم نہ کر دے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس مرحلے پر اسی وقت عمل کرے گی جب اسرائیل حملے بند کرے۔
غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بمباری میں شدت آ گئی ہے، ہزاروں خاندان ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے تقریباً دو تہائی علاقے پر کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ بیشتر آبادی تباہ شدہ عمارتوں یا عارضی خیموں میں انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔
ادھر مصر، قطر اور ترکی نے مشترکہ بیان میں غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اور امن منصوبے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

قومی خبریں سے مزید