فاؤچی کی کووڈ ڈائریاں منظرِ عام پر، وائرس کے آغاز اور ٹرمپ سے تعلق سمیت اہم انکشافات
واشنگٹن: امریکہ کے سابق اعلیٰ طبی عہدیدار ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کی کووڈ 19 وبا کے دوران لکھی گئی ڈائریوں نے عالمی وبا کے ابتدائی دنوں، وائرس کے ماخذ پر غیر یقینی صورتحال اور سیاسی دباؤ سے متعلق نئی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔
یہ ڈائریاں امریکی سینیٹر رینڈ پال کے دفتر کی جانب سے جاری کی گئیں، جو فاؤچی کی بدھ کو سینیٹ کی ہوم لینڈ سکیورٹی اور حکومتی امور کی کمیٹی کے سامنے گواہی سے قبل منظرِ عام پر آئیں۔ فاؤچی اس وقت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیزز کے سربراہ تھے۔
ڈائریوں کے مطابق کووڈ 19 کے ابتدائی مہینوں میں فاؤچی وائرس کے اصل ماخذ کے بارے میں مکمل یقین نہیں رکھتے تھے۔ سائنسی دنیا میں وائرس کے آغاز سے متعلق دو بڑے نظریات زیرِ بحث رہے: ایک یہ کہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا، جبکہ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے حادثاتی طور پر خارج ہوا۔
فاؤچی نے اپنی تحریروں میں وبا کے دوران میڈیا کی غیر معمولی توجہ، عوامی ردِعمل اور اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے منفرد اور پیچیدہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
ڈائریوں کے اجرا کے بعد کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی فیصلوں، سائنسی مشوروں اور وبا کے دوران اختیار کیے گئے اقدامات پر ایک بار پھر سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔
فاؤچی، جو کئی دہائیوں تک امریکہ میں متعدی بیماریوں کے حوالے سے نمایاں آواز رہے، کووڈ بحران کے دوران جہاں ایک طبقے کی جانب سے سائنسی رہنمائی کے لیے سراہا گیا، وہیں بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا بھی سامنا کرتے رہے





