ممدانی کے سرکاری گروسری اسٹورز منصوبے پر بحث، حامی اسے عوامی ریلیف جبکہ ناقدین اسے سوشلسٹ تجربہ قرار دے رہے ہیں

ممدانی کے سرکاری گروسری اسٹورز منصوبے پر بحث، حامی اسے عوامی ریلیف جبکہ ناقدین اسے سوشلسٹ تجربہ قرار دے رہے ہیں

نیویارک: نیویارک کے میئر زُہران ممدانی کے شہر کی ملکیت میں گروسری اسٹورز قائم کرنے کے منصوبے نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں کم آمدنی والے شہریوں کو ریلیف دے گا، جبکہ ناقدین اسے حکومت کے کاروبار میں براہِ راست داخل ہونے کا تجربہ قرار دے رہے ہیں۔

ممدانی نے 27 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ شہر کے زیرِ انتظام گروسری اسٹورز میں پھلوں، سبزیوں، گوشت اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا پر تقریباً 30 فیصد تک رعایت دی جائے گی۔ منصوبے کے تحت نیویارک کے پانچوں بوروز میں ایک ایک اسٹور قائم کیا جائے گا، جبکہ پہلا اسٹور 2027 کے آخر تک کھولنے کا منصوبہ ہے۔

میئر ممدانی کا کہنا ہے کہ نیویارک جیسے امیر ترین شہر میں کسی شہری کو بنیادی خوراک کے حصول کے لیے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق سرکاری اسٹورز کا مقصد بڑھتی ہوئی خوراک کی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔

ممدانی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت کو عوامی ضروریات کے شعبوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گروسری کاروبار چلانا آزاد مارکیٹ کے اصولوں سے انحراف ہے اور ایسے منصوبے طویل مدت میں مالی بوجھ بن سکتے ہیں۔ بعض مخالفین نے اسے “سوشلسٹ پالیسی” قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سرکاری ادارے نجی کاروبار کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔

نیویارک میں یہ منصوبہ آنے والے برسوں میں اس بات کا امتحان بنے گا کہ آیا حکومت کے زیرِ انتظام کاروباری ماڈل مہنگائی کے مسئلے کا مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید