غزہ میں ایک اور خونریز دن، 18 فلسطینی جاں بحق؛ ٹرمپ کے امن منصوبے پر زمینی حقائق نے سوالات اٹھا دیے

غزہ میں ایک اور خونریز دن، 18 فلسطینی جاں بحق؛ ٹرمپ کے امن منصوبے پر زمینی حقائق نے سوالات اٹھا دیے

غزہ: غزہ میں پیر کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 18 فلسطینی جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد مقامی شہریوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے متعلق حالیہ بیانات کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی جانب “اہم پیش رفت” ہوئی ہے، جس کے تحت حماس مرحلہ وار غیر مسلح ہوگی جبکہ اسرائیلی افواج بھی بتدریج غزہ سے انخلا کریں گی۔

تاہم معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح اختلاف برقرار ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اتوار کو کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلے گی جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہ ہو جائے اور اس کی سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ نہ کر دیا جائے۔

دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کے حصے پر عمل درآمد اسی صورت میں شروع کرے گی جب اسرائیل پہلے فوجی کارروائیاں بند کرے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق اس وقت اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً 60 سے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں، جبکہ غزہ کی صحت سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے کے بعد سے اب تک کم از کم 1,230 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ میں تازہ حملوں اور امن معاہدے پر عمل درآمد میں تعطل نے جنگ بندی کے مستقبل اور مستقل امن کی امیدوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں

قومی خبریں سے مزید