بلوچستان زبان بل پر ادبی اداروں کو خدشات، ماہرین نے اسے ثقافتی ورثے کے لیے خطرہ قرار دے دیا
کوئٹہ: بلوچستان میں مجوزہ زبانوں کے بل پر ادبی حلقوں اور زبان کے ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے بعض نکات صوبے کے ادبی اداروں اور زبانوں کے فروغ کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ زبانوں سے متعلق کسی بھی قانون سازی میں بلوچستان کی مختلف مقامی زبانوں، ادبی روایات اور ثقافتی تنوع کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر مناسب مشاورت نہ کی گئی تو یہ اقدام ادبی اداروں کے کردار اور خودمختاری پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ بلوچی، براہوی، پشتو، سندھی اور دیگر علاقائی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جو تمام زبانوں کو مساوی مواقع فراہم کریں۔
ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی قوم کی تاریخ، شناخت اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہوتی ہے، اس لیے زبانوں سے متعلق پالیسی مرتب کرتے وقت دانشوروں، ادیبوں اور متعلقہ اداروں کی رائے شامل کی جانی چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کی زبانوں کے فروغ کے لیے قانون سازی کو مزید مشاورت، تحقیق اور وسیع اتفاقِ رائے کے بعد آگے بڑھایا جائے





