گندم پالیسی پر نظرِ ثانی کی ضرورت، پاکستان میں کسانوں اور صارفین کے مفادات میں توازن کا سوال
اسلام آباد: پاکستان کی گندم پالیسی کو موجودہ حالات کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ موجودہ نظام کو کسانوں، صارفین اور قومی خزانے کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گندم ملک کی اہم ترین فصلوں میں شامل ہے، لیکن اس کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، درآمدات اور قیمتوں کے تعین سے متعلق پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کا روایتی نظام کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ اس نظام پر مالی بوجھ بڑھتا گیا اور کئی مواقع پر ضرورت سے زیادہ ذخائر بھی مسائل کا باعث بنے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہتر پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ پیداوار، طلب، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، موسمی حالات اور عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھا جائے۔ کسانوں کو مناسب قیمت ملنے کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے آٹے کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام بھی یقینی بنانا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو گندم کے شعبے میں جدید زرعی طریقوں، بہتر منصوبہ بندی اور شفاف مارکیٹ نظام کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ کسان اور عوام دونوں کو فائدہ پہنچ سکے





