امریکا ایران عبوری مفاہمتی یادداشت: جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور 60 روزہ مذاکرات کا منصوبہ
واشنگٹن: رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ عبوری مفاہمتی یادداشت میں 14 نکات شامل ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نے جنگی کارروائیاں روکنے اور ایک حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کا خاکہ پیش کیا ہے۔
دستاویز کے مطابق امریکا، ایران اور ان کے اتحادی تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے، ایک دوسرے کے خلاف مزید جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہ کرنے اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔ اس میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
معاہدے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری آمد و رفت
یادداشت کے مطابق امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور 30 دن کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت بحال کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا منصوبہ
دستاویز میں امریکا اور علاقائی شراکت داروں کی جانب سے ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی تیاری کا ذکر کیا گیا ہے، جس کی تفصیلات حتمی معاہدے کے دوران طے کی جائیں گی۔
پابندیاں ختم کرنے کی تجویز
عبوری معاہدے میں امریکا کی جانب سے ایران پر عائد مختلف پابندیوں، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور امریکی یکطرفہ پابندیاں شامل ہیں، کو مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام
دستاویز کے مطابق ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔ افزودہ یورینیم کے ذخائر، افزودگی کی سطح اور دیگر جوہری معاملات کو حتمی معاہدے میں طے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
حتمی معاہدے تک دونوں ممالک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر آمادہ ہوں گے، جس کے تحت ایران اپنے موجودہ جوہری پروگرام کی حالت برقرار رکھے گا جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی فوجی تعینات نہیں کرے گا۔
منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی
یادداشت میں ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کو استعمال کے لیے دستیاب بنانے اور اس حوالے سے طریقۂ کار مذاکرات کے دوران طے کرنے کا ذکر بھی شامل ہے۔
دونوں ممالک نے معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے ذریعے منظور کرانے کی تجویز بھی شامل ہے





