برصغیر کی نئی صبح، جب عورت صرف آواز نہیں بلکہ قیادت بن رہی ہے
آفاق فاروقی
برصغیر کی تاریخ میں طاقت کے مراکز ہمیشہ زیادہ تر مردوں کے ہاتھ میں رہے ہیں۔ سیاست، سماج، خاندان اور اداروں میں فیصلہ سازی کی کرسی پر مرد کا غلبہ ایک طویل روایت رہی ہے،لیکن تاریخ کے ہر دور میں کچھ ایسی آوازیں ضرور ابھرتی ہیں جو خاموش سمجھے جانے والے طبقوں کو بولنے کا حوصلہ دیتی ہیں
آج جنوبی ایشیا میں عورت کی آواز اسی تبدیلی کی علامت بنتی دکھائی دے رہی ہے
بھارت میں احتجاجی سیاست، طلبہ تحریکوں اور سماجی جدوجہد کے میدان میں سامنے آنے والی نئی نسل کی خواتین اس بات کا اعلان کر رہی ہیں کہ عورت اب صرف کسی سیاسی بیانیے کا موضوع نہیں بلکہ خود ایک سیاسی قوت ہے
نیہا سنگھ راٹھور جیسی فنکارہ نے یہ ثابت کیا کہ گیت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی احساسات کی ترجمانی بھی کر سکتے ہیں،ایک آواز جو دیہات، گلیوں اور عام لوگوں کی زبان میں سوال اٹھاتی ہے، وہ کبھی کبھی بڑے سیاسی نعروں سے زیادہ اثر پیدا کر دیتی ہے
نیہا بھارتی جیسی سماجی کارکن خواتین نے محروم طبقات، ذات پات کے مسائل اور آئینی برابری کے سوالات کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا،ان کی کوششیں اس بنیادی سوال سے جڑی ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ دینے کا نام ہے یا ہر انسان کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع دینے کا وعدہ بھی ہے؟
اسی طرح نیہا بورا جیسی طالبہ رہنما خواتین یونیورسٹیوں اور نوجوانوں کے مسائل کو سیاسی بحث کا حصہ بنا رہی ہیں،تعلیم، روزگار اور مستقبل کے سوالات آج کی نوجوان نسل کے لیے محض انتظامی معاملات نہیں بلکہ اپنی زندگی کے بنیادی حقوق کا مسئلہ بن چکے ہیں
لیکن یہ کہانی صرف بھارت تک محدود نہیں،پورے برصغیر میں خواتین نے اپنے اپنے میدانوں میں طاقت کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے
پاکستان میں عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور کمزور طبقات کے لیے ایسی جدوجہد کی جس نے انہیں ایک عالمی سطح کی آواز بنا دیا۔ آج نئی نسل میں ایمان مزاری جیسی خواتین وکلا اور کارکنان شہری آزادیوں اور انصاف کے سوالات پر سرگرم ہیں،بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ جیسی خواتین نے بھی یہ دکھایا ہے کہ سیاسی اور سماجی مزاحمت اب صرف مردوں کا میدان نہیں رہی
برصغیر کی تاریخ میں خواتین کی قیادت کی مثالیں پہلے بھی موجود ہیں۔ اندرا گاندھی دنیا کی بڑی سیاسی شخصیات میں شمار ہوئیں، بینظیر بھٹو ایک مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں،مگر ان مثالوں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ خواتین کو اکثر مردانہ طاقت کے نظام میں اپنی جگہ بنانے کے لیے دوہری جدوجہد کرنا پڑی
صدیوں سے یہ تصور موجود رہا کہ عورت جذباتی ہے، فیصلہ سازی کے لیے کمزور ہے یا قیادت کے لیے موزوں نہیں،لیکن موجودہ دور کی خواتین اس تصور کو عملی طور پر بدل رہی ہیں۔ وہ دکھا رہی ہیں کہ جذبہ، ہمدردی اور حساسیت کمزوری نہیں بلکہ قیادت کی طاقت بھی بن سکتی ہے
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے معاشروں میں خواتین رہنماؤں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے،لوگ صرف طاقتور آواز نہیں چاہتے، وہ ایسی قیادت چاہتے ہیں جو انسانی دکھ، معاشرتی ناانصافی اور عام آدمی کی مشکلات کو سمجھ سکے
مردانہ بالادستی پر مبنی پرانے سماجی ڈھانچے اب ایک نئے سوال کا سامنا کر رہے ہیں: کیا مستقبل کی سیاست صرف طاقت کے ذریعے چلے گی یا احساس، انصاف اور خدمت بھی قیادت کی بنیاد بنیں گے؟
برصغیر کی نئی نسل کی خواتین اس سوال کا اپنا جواب دے رہی ہیں،وہ سڑکوں پر بھی ہیں، عدالتوں میں بھی، یونیورسٹیوں میں بھی اور سیاست کے میدان میں بھی
تاریخ میں تبدیلی ہمیشہ خاموشی سے شروع ہوتی ہے،پہلے ایک آواز اٹھتی ہے، پھر چند آوازیں ملتی ہیں اور آخرکار ایک نئی حقیقت جنم لیتی ہے
ممکن ہے کہ جنوبی ایشیا کے آنے والے عشروں کی سب سے بڑی سیاسی کہانی یہی ہو کہ ایک خطہ، جہاں کبھی عورت کو صرف گھر کی حدود میں دیکھا جاتا تھا، وہاں عورت اب معاشرے کی سمت متعین کرنے والی قوت بن رہی ہے








