جب تسلیم کرلیا نظام نہیں چل رہا تو بیٹھے کیوں ہو ؟ اصلاح کے لیے سب سر جوڑ کے بیٹھیں ، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم خاقان عباسی نے کہا ہے حکمرانوں نے آخر کار تسلیم کرلیا ملک نہیں چل رہا مگر اس گھمبیر صورت حال پر اسمبلی میں بات ہونی چاہیے انہوں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے ملک جب تک نہیں چلے گا جب تک قانون کی بالا دستی نہیں ہوگی مجھ سمیت ہر شخص ہر ادارہ قانون آئین کی پاسداری نہیں کرے گا اور اسی صورت میں ملک میں سرمایہ کاری آئے گی ، سابق وزیر اعظم نے کہا ہے بہت مشکور ہوں وزیر داخلہ صاحب کا، چار پانچ سال بعد انہیں احساس ہوا کہ ملک نہیں چل رہا، یہ بات کابینہ کے اندر ہونی چاہیے تھی، کابینہ میں بحث کرتے، پارلیمان میں بحث ہوتی کہ ہمارا ملک نہیں چل رہا، شکر ہے حکمرانوں! کو بھی پتہ چلا ملک نہیں چل رہا ، فوج کو بھی معلوم ہے ملک نہیں چل رہا ، عوام تو پہلے ہی جانتی ہے، ملک نہیں چل رہا، لیکن حکمرانوں کو آج چار پانچ سال بعد احساس ہوا کہ ملک نہیں چل رہا
شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی یہی بات کی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب جو ہوتے ہیں وہ فوج کا متفقہ رائے ہوتی ہے اس کا اظہار کرتے ہیں۔ تو آج حکومت بھی کہہ رہی ہے، فوج بھی کہہ رہی ہے، پاکستان کے عوام تو بہت پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ ملک نہیں چل رہا۔
جب تک آپ ریفارمز (اصلاحات) نہیں کریں گے، ملک نہیں چلے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے اور جیسے ہی یہ باتیں شروع ہوئیں، ہر طرف سے اس کی مخالفت بھی شروع ہو گئی، کابینہ کے اندر مخالفت شروع ہو گئی، تو یہ ہم کیونکہ مفاد کا مسئلہ ہے۔ جس کے مفاد پر بھی اگر ہم ملک میں ریفارم کی بات کریں گے، جس میں صوبوں کی بات بھی شامل ہے، دیگر ریفارمز بھی ہیں، تو پھر جن کا مفاد وابستہ ہے، جن کی سیاست ان معاملوں سے وابستہ ہے وہ نہیں ہونے دیں گے
ملک کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے یہ کیفیت آج ہمارے ملک کی ہے کہ ملک چلتا نہیں ہے، پیسے ہیں نہیں اور ہم ریفارمز کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں، ریفارمز پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں، آپ پورا بجٹ دیکھ لیں، کوئی ریفارم کی بات نہیں ہے، کوئی طریقہ نہیں ہے کہ کس طرح ملک آگے بڑھ پائے گا
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے اندر ریفارمز کیے جائیں ورنہ یہ معاملہ خراب سے خراب تر ہوتا جائے گا،آپ کے قرضے بڑھتے جائیں گے، آپ کے ٹیکس بڑھتے جائیں گے، ایک دن یہ لاوا پھٹ پڑے گا
یہاں پر موروثی سیاست کی بات بھی شروع ہوئی ہے کہ موروثی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ یہ فیصلہ بھی عوام پر چھوڑ دیں، اگر عوام کی رائے کا احترام کریں گے، الیکشن میں دھاندلیاں نہیں ہوں گی، تو لوگ خود فیصلہ کر دیں گے کہ موروثی سیاست ٹھیک ہے یا نہیں ہے۔ لیکن ہم ان کو وہ حق بھی نہیں دینا چاہتے
اس لیے یہ حالات درست کرنا کوئی بذاتِ خود حل نہیں ہے کہ صوبے بن جائیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا، یا اگر نظام کوئی بدل لیں گے۔ اس کی ابتدا ملک میں رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) سے ہے، جس کے ہم سب تابع ہوں، اس ملک کی اشرافیہ بھی تابع ہو، اسٹیبلشمنٹ بھی تابع ہو، جج بھی تابع ہوں، سیاستدان بھی تابع ہوں، بیوروکریسی بھی تابع ہو، پھر جا کر ملک چلے گا
کسی خام خیالی میں ہمیں نہیں رہنا چاہیے، کوئی ملک دنیا میں ایسا نہیں ہے جس نے ملک میں رول آف لاء کے بغیر ترقی کی ہو، رول آف لاء نہیں ہوگا، کوئی انویسٹمنٹ نہیں آئے گی، رول آف لاء نہیں ہوگا، ملک کے اندر انتشار رہے گا، پولیٹیکل اسٹیبلٹی (سیاسی استحکام) نہیں ہوگی
تو آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں ہم ایک پولیٹیکل ڈائیلاگ انہوں نے کہا ہے سیاسی مکالمہ پیدا کریں، یہ جو ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالتے ہیں یہ باتیں ختم کریں، یہ بہت ہو چکا ہے۔ ہم 78 سال سے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالتے آئے ہیں، جو اقتدار میں آتا ہے دوسرے کو کرپٹ کہتا ہے اور جیل میں ڈال دیتا ہے، اور وہی جج ہیں جو غلط فیصلے کرتے ہیں، جو بعد میں پچھتاتے ہیں،لیکن نقصان بالآخر ملک کا ہوتا ہے
کون سا سیاستدان ہے اور جو آج اقتدار میں ہے جیل میں نہیں گیا؟ کون سا ہے جو کل اقتدار میں تھا اور آج جیل میں نہیں ہے؟ اس طرح ملک چلیں گے؟ یا اگر سارے سیاستدان ہی کرپٹ ہیں تو پھر ملک کون چلائے گا؟
لیکن آج ہمیں اس مفاد پرستی سے نکل کر ملک کے حالات کو دیکھنا ہے، آج جو یہ بات کر رہے ہیں، اب آج حکومت کو دیکھ لیں،یہ کون سی حکومت ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی جمہوریت ہے؟ دو بڑے کولیٹِکل پارٹنرز ہیں جن کے سر پر حکومت قائم ہے،وہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں دھاندلی کے،جی بی (گلگت بلتستان) کے الیکشن، آزاد کشمیر کے الیکشن… جہاں اس ملک کے وہ دو جماعتیں جو پاکستان میں اکٹھا ملک چلا رہی ہیں، وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں
یہ تو بہت بڑی جمہوریت ہوئی! کہ یہاں پر اقتدار میں بیٹھے ہیں اور وہاں پر الیکشن ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، الزامات لگا رہے ہیں، کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں، دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں
اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ایک ہمارے بھائی کابینہ کے ممبر ہیں، وہ گلگت بلتستان میں بھی حکومت کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں، لڑ چکے ہیں، آزاد کشمیر میں بھی لڑ رہے ہیں۔ تو یہ بھی بہت اچھی جمہوریت ہے کہ آپ کابینہ میں بھی ہیں اور حکومت کی پالیسی کا رد بھی کرتے ہیں باہر جا کر!
شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے آخر یہ اس ملک میں ہو کیا رہا ہے ، یہ ملک جا کہاں رہا ہے ؟ ملک کے اندر؟ کوئی مجھے دنیا کا ایسا ملک دکھا دے جس میں یہ کیفیت ہو، جس کی سیاست میں یہ حالات ہوں، یہاں پر کوئی عوام کی بات نہیں کر رہا، اگر کوئی عوام کی بات پر، کسی عوام کے مفاد پر بات ہوتی، اگر اس پر کوئی جھگڑا ہوتا تو میں بہت خوش ہوتا، یہاں بات کرسیوں کی ہے، میری سیٹ اس نے چھین لی’، ‘میرا اعلان میں نے کرنا تھا اس دوسرے نے کر دیا’، ‘میری کرسی ادھر چلی گئی’، ‘میرا ممبر خرید لیا گیا’، ‘میرے پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی ہو گئی’… یہ آج ہمارے ملک کی کیفیت ہے
اور عوام تماشہ دیکھ رہے ہیں، لیکن زیادہ عرصہ یہ تماشہ نہیں دیکھیں گے،اس لیے آج بھی وقت ہے، ملک میں ایک سیاسی ڈائیلاگ ہونا چاہیے کیونکہ سب کا کاٹھ کباڑ اس ملک کے معاملات پر ہے،کوئی بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہے ملک کے معاملات سے،اس لیے سب کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہے، یہ نہیں طے کرنا کہ ہماری کرسیاں کہاں جائیں گی، مجھے کون سے علاقے میں ووٹیں مل جائیں گی، دیکھنا یہ ہے کہ ملک کیسے چلے گا
ان افراد کا مشکور ہوں جن کو یاد آئی، دیر سے یاد آئی کہ ملک نہیں چل رہا، اور اعتراف بھی کر لیا ہے،لیکن اب اس کا حصہ تو نہ بنیں نا! اس کی تصحیح درست کرنا شروع کریں، اندر سے درست کرنا شروع کریں،کیا کابینہ میں ڈیبیٹ (بحث) ہو سکتی ہے کہ ملک نہیں چل رہا؟ حقائق میں نے آپ کے سامنے رکھے کہ ملک بالکل نہیں چل رہا،کسی پیمانے کو لے لیں ملک نہیں چل رہا۔
انہوں نے کہا ہے تو آج ملک کو درست کرنے کی بات ہونی ہے،آج ایک دوسرے کے خلاف پرچے بنانے چھوڑ دیں، جیلوں میں ڈالنا چھوڑ دیں، سب باہر بیٹھیں اور ملک کے مسائل کو حل کریں،یہ آج پاکستان کی ضرورت ہے،ہو سکتا ہے آپ کی ضروریات کچھ اور ہوں، آپ کا مفاد کچھ اور ہو، لیکن ملک کی ضرورت یہ ہے کہ یہاں پر ایک ڈائیلاگ ہو، پولیٹیکل اسٹیبلٹی ہو، یہ سیاسی جو تناؤ ہے یہ ختم ہو، جو سیاسی انتشار ہے ختم ہو، ملک کے اندر نفاق ختم ہو، پھر جا کر ملک ترقی کر سکے گا۔ بہت شکریہ!”

صحافی کا شاہد خاقان عباسی سے سوال
“عباسی صاحب، آپ نے کہا کہ چار سال سے جو ہے ملک بڑا خراب حالت میں ہے، تباہ ہو رہا ہے، تو کیا چار سال سے پہلے جو ہے یہاں پر دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں؟ آپ نے کہا جو وزیر داخلہ کا آپ نے کہا کہ ان کو پانچ سال بعد جا کے پتہ لگا، آپ کو تو 30 سال سے زیادہ ہو گئے ادھر، آپ حکومت کا بھی حصہ رہے، اپوزیشن کا بھی حصہ رہے، جیلوں میں بھی گئے۔ آپ نظام کی جو تبدیلی کی بات وہ وزیر داخلہ کر رہے ہیں وہ کس چیز کی بات کر رہے ہیں؟ وہ پارلیمانی جو سسٹم ہے اس کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں؟”
جوابا شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے
“مجھے میں ٹھیک ہے، میں اس کا… اس کا مجھے نہیں پتہ وہ کیا چاہتے ہیں،انہوں نے ایک بات کی ہے، وزیر ہیں، طاقتور وزیر ہیں،اگر ایک وزیر اٹھ کر کہے کہ ملک نہیں چل رہا، تو اس ملک کے عوام کیا سوچیں گے؟
یہ جو ماضی ہے نا، ‘سب ذمہ دار ہیں’، اس بات کو چھوڑ دیں،کہاں… کہاں آپ 48 جائیں گے، سب کے سب ذمہ دار ہیں، کوئی بری الذمہ نہیں ہے،کوئی شخص ایسا یہاں نہیں ہے جو کہے جی میں بری الذمہ ہوں،چھوڑ دیں اس بات کو، آج کی بات کریں۔
انہوں مذید وضاحت کرتے ہوئے کہا “اب انہوں نے بات کر دی ہے وزیر داخلہ نے، اب کیا حکومت کیا کہے گی کہ یہ غلط کہہ رہا ہے؟ میں نے حقائق آپ کے سامنے رکھے،معاملات روز سے ہر روز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں،ان کو درست کرنا ہے اور میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے کہ جب تک رول آف لاء نہیں ہوگا، ملک کے اندر ڈائیلاگ نہیں ہوگا پولیٹیکل، یہ معاملہ درست نہیں ہوگا۔”
صحافی کا سوال
“عباسی صاحب، یہ بتائیے گا کہ جب یہ تسلیم کر لیا آپ نے کہ آپ سے ملک نہیں چل رہا، ملک کولیپس کر چکا ہے، اور آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کاک روچ جو ہیں وہ تیار بیٹھے ہیں، اور ساتھ آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 20 20 گھنٹے آپ کام کریں کچھ نہیں ہونے والا، تو کیا ایسی حکومت کو استعفیٰ دے کے گھر چلے جانا نہیں چاہیے؟”
شاہد خاقان عباسی نے مذکورہ سوال کے جواب میں کہا
“بھائی، یہ دیکھیں نا، وہ اصول کی بات ہے نا! جانا چاہیے! اگر آپ ایک ایسی حکومت میں شامل ہیں جو نہیں چل رہی، پھر آپ وہاں پر کیا کر رہے ہیں؟ اس معیار پر آپ جائیں گے تو ساری حکومت کو استعفیٰ دینا پڑے گا، انہوں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا
آپ کے سامنے حقائق میں نے… یہ چند حقائق آپ کے سامنے رکھے ہیں، ملک کسی پیمانے سے بھی نہیں چل رہا، ملک کے اندر کوئی ترقی نہیں ہو رہی، ملک کے عوام کے حالات ہر گزرتے وقت کے ساتھ بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، آپ… آپ بیٹھے ہوئے ہیں کرسیوں پر!”
سابق وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بیٹھے سابق سینٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا
“سر، ایک اور چیز بھی ہے جو آپ نے بات کی کاک روچ کی، میں اس چیز کے سخت خلاف ہوں۔ چلیں، ہمسایہ ملک میں انہوں نے ‘کاک روچ پارٹی’ بنا لی، اعجاز الحق صاحب نے کہا جی کاک روچ نکلیں گے تو ہم اس پر اسپرے (Sevin Spray) کریں گے۔
عوام کو انسان سمجھیں! یہ انسان ہیں، یہ جیتے جاگتے انسان ہیں، ان کی حس ہے، ان کی ضروریات ہیں، آپ اپنی عوام کو کاک روچ… آج کاک روچ کہہ رہے ہیں، کل آپ ان کو گندی نالی کا کیڑا کہنا شروع کر دیں گے، پرسوں آپ ان کا کچھ اور نام رکھ دیں گے!
یہ جیتے جاگتے انسان ہیں، ان کو جو ان کے حقوق ہیں انسانوں والے، وہ انسانیت کے تحت ان کو انسانوں والے حقوق دیں۔ ان کو کاک روچ، چوہا اور مینڈک بنانے بند کریں، ان کو انسان سمجھیں!”

قومی خبریں سے مزید