نسلوں کا مکالمہ یا امریکہ کی سیاست کا نیا محاذ؟ سابق وزیرِ محنت اور نوجوان مؤرخ آمنے سامنے

نسلوں کا مکالمہ یا امریکہ کی سیاست کا نیا محاذ؟ سابق وزیرِ محنت اور نوجوان مؤرخ آمنے سامنے

نیویارک: امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے ایک خصوصی پروگرام میں سابق امریکی وزیرِ محنت رابرٹ رائخ اور نوجوان مؤرخ و ڈیجیٹل تخلیق کار خلیل گرین نے امریکی سیاست، احتجاجی تحریکوں، سرمایہ داری اور نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نظریاتی اختلافات پر تفصیلی گفتگو کی۔

گفتگو کے آغاز میں خلیل گرین نے رابرٹ رائخ سے سوال کیا کہ ان کی نسل کے بارے میں کون سا ایسا عام تاثر ہے جسے وہ غلط سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ اس پر یقین کرنا چھوڑ دیں۔

جواب میں رابرٹ رائخ نے کہا کہ وہ “بیبی بومر” نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور 1946 میں پیدا ہوئے، جو وہی سال ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدور جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن، جبکہ معروف فنکاراؤں شیر اور ڈولی پارٹن کی بھی پیدائش ہوئی تھی۔

رابرٹ رائخ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں معاشیات اور عوامی پالیسی کے پروفیسر ایمیریٹس ہیں اور عوامی پالیسی، معیشت اور امریکی سیاست پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

خلیل گرین نے بتایا کہ وہ “ہسٹری کینٹ ہائیڈ” کے نام سے تاریخ پر مبنی ایک مقبول خبرنامے کے مصنف ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے دس لاکھ سے زائد پیروکار ہیں، اور وہ ایسی تاریخی حقیقتوں پر ویڈیوز بناتے ہیں جو عام طور پر تعلیمی نصاب یا روایتی تدریس میں شامل نہیں ہوتیں۔

یہ مکالمہ صرف دو مختلف نسلوں کے نمائندوں کی گفتگو نہیں بلکہ اس وسیع بحث کی عکاسی بھی کرتا ہے جو آج کے امریکہ میں سیاست، سماجی انصاف، سرمایہ داری، نوجوانوں کے کردار اور جمہوری اقدار کے مستقبل کے بارے میں جاری ہے

قومی خبریں سے مزید