پاکستان کی بلند ترین چوٹیوں پر آخری سفر: جان سے جانے والوں کی لاشیں واپس لانے کا خطرناک مشن
پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں میں کوہ پیمائی اور مہم جوئی کے فروغ کے ساتھ ایک نیا اور انتہائی خطرناک فریضہ بھی سامنے آیا ہے، جسے چند پاکستانی کوہ پیما خاموشی سے انجام دے رہے ہیں۔ یہ فریضہ 7 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر جان کی بازی ہارنے والے کوہ پیماؤں کی لاشوں کو واپس لانا ہے، جو دنیا کے مشکل ترین ریسکیو مشنز میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بلند پہاڑوں پر ریسکیو اور لاشوں کی بازیابی کے لیے کوئی مستقل نجی ادارہ موجود نہیں، اس لیے ایسے مشنز اکثر تجربہ کار پاکستانی کوہ پیماؤں اور رضاکار ٹیموں کی مدد سے انجام دیے جاتے ہیں۔ ان مشنز میں شریک افراد اپنی جان کو شدید خطرات میں ڈال کر غمزدہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ میں آسٹریا کے مارکس کرونتھالر، افغان کوہ پیما اکبر علی سخی اور پاکستانی کوہ پیما محمد حسن شگری سمیت متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، جن کی لاشیں انتہائی دشوار حالات میں واپس لانے کی کوششیں کی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند ترین علاقوں میں آکسیجن کی شدید کمی، منجمد موسم اور برفانی تودوں کے خطرات ایسے مشنز کو غیر معمولی حد تک جان لیوا بنا دیتے ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ پاکستان میں مستقل ہائی آلٹیٹیوڈ ریسکیو اور باڈی ریکوری سروس قائم کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے نمٹنے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے مؤثر نظام موجود ہو۔





