مودی کا طلبہ کے خلاف کارروائی سے گریز کا پیغام، کہا: جنہوں نے توہین کی انہیں معاف کرنا چاہتا ہوں، یہ گمراہ بچے ہیں

مودی کا طلبہ کے خلاف کارروائی سے گریز کا پیغام، کہا: جنہوں نے توہین کی انہیں معاف کرنا چاہتا ہوں، یہ گمراہ بچے ہیں

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی کے جنتر منتر احتجاج کے دوران اپنے خلاف مبینہ توہین آمیز نعرے لگانے والے طلبہ کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں معاف کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو سزا دینے کے بجائے ان کی رہنمائی کرے۔

مودی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ احتجاج میں شامل نوجوان “گمراہ بچے” ہیں اور انہیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو نفرت یا غصے کے راستے پر جانے کے بجائے مثبت سمت دکھانے کی ضرورت ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب جنتر منتر پر ہونے والے ایک احتجاج کے دوران ایک کم عمر طالب علم پر وزیر اعظم کے خلاف نازیبا نعرے لگانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے پر پولیس نے کارروائی شروع کی، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے کم عمر طالب علم کے خلاف فوجداری کارروائی پر سوالات اٹھائے۔

مودی کے بیان کے بعد یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ سیاسی احتجاج، آزادیِ اظہار اور نوجوانوں کی غلطیوں سے نمٹنے کے لیے مناسب طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔

حکومت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے برداشت اور اصلاح کا پیغام دیا ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے معاملات میں قانون کے یکساں نفاذ اور نوجوانوں کے حقوق کے درمیان توازن ضروری ہے۔

یہ واقعہ بھارت میں سیاسی اختلاف، نوجوانوں کے احتجاج اور سوشل میڈیا کے دور میں اظہارِ رائے کی حدود پر جاری بحث کا حصہ بن گیا ہے

قومی خبریں سے مزید