ٹوبیاس لوتکے جنکے اثاثے 154 بلین ڈالر امریکی جمہوریت پر نئی بحث چھیڑ دی، کیا دولت سیاسی اختیار کا معیار بن سکتی ہے

ٹوبیاس لوتکے جنکے اثاثے 154 بلین ڈالر امریکی جمہوریت پر نئی بحث چھیڑ دی، کیا دولت سیاسی اختیار کا معیار بن سکتی ہے

آن لائن تجارت کی معروف کمپنی Shopify کے سربراہ اور شریک بانی ٹوبیاس لوتکے اس وقت شدید بحث کا مرکز بن گئے جب انہوں نے ایک ایسے سیاسی خیال کو “اچھا نظام” قرار دیا جس کے تحت ووٹ کے حق کو ٹیکس ادائیگی سے مشروط کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب سوشل میڈیا پر ایک تجویز سامنے آئی کہ جو لوگ وفاقی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے انہیں ووٹ کا حق نہ دیا جائے، جبکہ زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں کو زیادہ ووٹ دیے جائیں۔ اس مجوزہ نظام میں آمدنی کے حساب سے ووٹوں کی تعداد بڑھانے کی بات کی گئی تھی، حتیٰ کہ سب سے زیادہ آمدنی رکھنے والوں کو کئی ووٹ دینے کی تجویز بھی شامل تھی۔

لوتکے نے اس تجویز کو “اچھا نظام” قرار دیا، جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی کہ کیا جمہوریت میں سیاسی طاقت کو دولت یا ٹیکس کی مقدار سے جوڑا جا سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا نظام امریکہ کے اس بنیادی اصول کے خلاف ہوگا کہ ہر شہری کا ووٹ برابر ہے۔ ان کے مطابق ووٹ کے حق کو دولت سے جوڑنا 19ویں صدی کے ان نظاموں کی یاد دلاتا ہے جب کئی ممالک میں صرف جائیداد رکھنے والے یا مخصوص مالی حیثیت رکھنے والے افراد کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔

تاریخی طور پر ایسے نظام کو امتیازی یا محدود حقِ رائے دہی کہا جاتا تھا، جسے بعد میں خواتین، مزدوروں اور عام شہریوں کی طویل جدوجہد کے بعد ختم کیا گیا۔

لوتکے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ جو لوگ ریاستی اخراجات میں زیادہ حصہ ڈالتے ہیں، انہیں پالیسی سازی میں زیادہ آواز ملنی چاہیے۔ جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا اصول یہی ہے کہ شہری کی سیاسی طاقت اس کی دولت سے نہیں بلکہ شہریت سے آتی ہے۔

یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب ناقدین نے لوتکے کی اپنی کمپنی کے ڈھانچے
یہ بحث صرف ایک شخص کے بیان تک محدود نہیں بلکہ اس بڑے سوال سے جڑی ہے کہ جدید جمہوریت میں دولت، طاقت اور سیاسی نمائندگی کا تعلق کیا ہونا چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید