امریکہ اور چین کی نئی مصنوعی ذہانت جنگ، اے آئی ماڈلز کی نقل کا الزام، ٹیکنالوجی کی بالادستی کی لڑائی خطرناک مرحلے میں داخل

امریکہ اور چین کی نئی مصنوعی ذہانت جنگ، اے آئی ماڈلز کی نقل کا الزام، ٹیکنالوجی کی بالادستی کی لڑائی خطرناک مرحلے میں داخل

دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب ایک نئے محاذ پر پہنچ گئی ہے، جہاں جنگ ہتھیاروں یا تجارت کی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے راز، طاقتور ماڈلز اور جدید ٹیکنالوجی کی ملکیت کی ہے۔

اس تنازع کے مرکز میں ایک تکنیک ماڈل ڈسٹلیشن ہے، جس کے ذریعے ایک طاقتور مصنوعی ذہانت نظام کے نتائج استعمال کرتے ہوئے ایک چھوٹا اور کم لاگت والا اے آئی ماڈل تیار کیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹا ماڈل کم کمپیوٹنگ طاقت کے باوجود بڑے ماڈل کی بعض صلاحیتیں انجام دے سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن کئی برسوں سے تحقیق کا ایک عام طریقہ رہا ہے، جس کا مقصد اے آئی نظاموں کو زیادہ تیز، سستا اور مؤثر بنانا ہے۔ لیکن اب یہی تکنیک امریکہ اور چین کے درمیان شدید تنازع کی وجہ بن گئی ہے۔

امریکی حکومت اور بڑی امریکی اے آئی کمپنیاں الزام عائد کر رہی ہیں کہ بعض چینی ادارے اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئے ایسے طاقتور اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کر رہے ہیں جو اصل میں امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اگر جدید ترین مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بغیر اجازت منتقل ہونے لگیں تو یہ ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

امریکہ کی معروف اے آئی کمپنیاں، جن میں اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک جیسے ادارے شامل ہیں، طویل عرصے سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے بڑے زبان ماڈلز تیار کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ماڈلز کی تربیت، ڈیٹا اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر ایک قیمتی دانشورانہ اثاثہ ہے، جس کا غیر مجاز استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چینی کمپنیوں نے کم لاگت اور زیادہ مؤثر اے آئی ماڈلز متعارف کرائے ہیں، جس سے واشنگٹن میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ بیجنگ محدود وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں خلا کم کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت اب صرف کاروباری مقابلہ نہیں رہی بلکہ قومی طاقت، معیشت، دفاع اور عالمی اثر و رسوخ کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماڈل ڈسٹلیشن جیسی تکنیک اب سائنسی تحقیق سے نکل کر امریکہ اور چین کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشمکش کا نیا میدان بن گئی ہے۔

اگر یہ تنازع بڑھتا ہے تو مستقبل میں اے آئی ٹیکنالوجی کی منتقلی، برآمدات، سافٹ ویئر تک رسائی اور عالمی تعاون پر نئی پابندیاں لگنے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید