امتحان میں اے آئی کا سہارا لینے والے 32 طلبہ پکڑے گئے، امریکی پروفیسر نے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی

امتحان میں اے آئی کا سہارا لینے والے 32 طلبہ پکڑے گئے، امریکی پروفیسر نے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی

امریکا کی ایک یونیورسٹی کے استاد نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تعلیمی اثرات پر نئی بحث شروع کر دی ہے، جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے تقریباً تمام طلبہ نے وسط مدتی امتحان کے ایک حصے میں اے آئی چیٹ بوٹس کی مدد حاصل کی۔

ریاست مسی سپی کی الکورن اسٹیٹ یونیورسٹی کے استاد جیسن گبسن نے بتایا کہ ان کے 35 طلبہ میں سے 32 طلبہ ایک سوال کے جواب میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے باعث ناکام قرار دیے گئے۔ طلبہ کو صنعتی انقلاب کے موضوع پر ایک تحریری بحث تیار کرنی تھی، لیکن استاد کے مطابق جوابات میں ایسے شواہد ملے جن سے ظاہر ہوا کہ انہیں اے آئی چیٹ بوٹس نے تیار کیا۔

جیسن گبسن نے 20 جولائی کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور 29 جولائی تک اسے مجموعی طور پر 22 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔

استاد کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ طلبہ نے ایک ٹیکنالوجی استعمال کی، بلکہ اصل سوال یہ تھا کہ کیا انہوں نے اسے سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا یا مکمل جواب تیار کرانے کے لیے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں دنیا بھر کے تعلیمی ادارے اسی سوال سے دوچار ہیں کہ طلبہ کو اے آئی کے استعمال کی اجازت کس حد تک دی جائے۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی تعلیم کا حصہ بن چکی ہے، لیکن اس کا بے قابو استعمال طلبہ کی تخلیقی صلاحیت، تحقیق اور تنقیدی سوچ کو متاثر کر سکتا ہے۔

دوسری جانب کچھ ماہرین تعلیم کا مؤقف ہے کہ اے آئی کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے طلبہ کو اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دینی چاہیے، کیونکہ مستقبل کے روزگار میں بھی یہ ٹیکنالوجی ایک بنیادی کردار ادا کرے گی۔

جیسن گبسن کی یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، نقل اور تعلیمی دیانت داری کے حوالے سے سخت بحث جاری ہے

قومی خبریں سے مزید