موسمی آفات پاکستان کے بچوں کا مستقبل ڈبو رہی ہیں
تعلیمی بحران سنگین ہو گیا
پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مسلسل بحرانوں، وباؤں اور موسمی آفات نے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایک تجزیے کے مطابق کووڈ وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور بعد کے سیلابوں نے لاکھوں بچوں کو تعلیم سے دور کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق 2022 کے سیلاب سے ہزاروں اسکول تباہ یا متاثر ہوئے، کئی اسکول عارضی امدادی مراکز میں تبدیل کر دیے گئے، جس کے باعث لاکھوں بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ بعض علاقوں میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں بہت نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق ان بحرانوں کا سب سے زیادہ اثر بچیوں کی تعلیم پر پڑا ہے۔ غریب خاندانوں میں آمدنی کے ذرائع متاثر ہونے کے بعد اکثر بچیوں کی تعلیم پہلے ختم کی جاتی ہے، جس سے کم عمری کی شادیوں کے مسائل بھی بڑھتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمی تبدیلی، غذائی کمی اور صحت کے مسائل مل کر پاکستان کی نئی نسل کے لیے بڑے چیلنج پیدا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم، صحت اور موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل المدتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔





