سونم وانگچک کا ناقدین کو جواب، حکومت سے کسی خفیہ معاہدے کے الزام کو مسترد کردیا
بھارتی ماحولیاتی کارکن اور لداخ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے سونم وانگچک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ انہوں نے حکومت کے ساتھ کوئی ’’معاہدہ‘‘ کر لیا ہے۔
وانگچک نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’کیا مجھے اب بھی اپنی نیت اور اخلاص ثابت کرنے کی ضرورت ہے؟‘‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ وانگچک کے بارے میں جلد بازی میں فیصلہ نہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ طویل بھوک ہڑتال کے دوران وانگچک کا وزن 11 کلو کم ہوا اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں صحت یاب ہو رہے ہیں۔
وانگچک لداخ کے لیے آئینی تحفظات، مقامی حقوق اور دیگر مطالبات کے حوالے سے احتجاج کر رہے تھے۔ ان کی تحریک نے لداخ کے مستقبل، ماحولیات اور مقامی آبادی کے حقوق کے معاملے پر قومی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وانگچک کی جدوجہد اصولی بنیادوں پر ہے، جبکہ ناقدین کے الزامات کے بعد انہوں نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی ذاتی مفاد کے بجائے لداخ کے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے





