موسمیاتی تبدیلی کا وار، دنیا بھر کے مقامی قبائل اقوام متحدہ میں زیادہ اختیارات کا مطالبہ کرنے لگے
موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دنیا کے مقامی قبائل اب اقوام متحدہ میں اپنی آواز اور فیصلہ سازی کے کردار میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ خاص طور پر آرکٹک خطے میں رہنے والے سامی (Sámi) لوگوں کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت ان کے صدیوں پرانے طرزِ زندگی اور ثقافت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق آرکٹک کا خطہ دنیا کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ اس تبدیلی کے باعث برف تیزی سے پگھلتی اور دوبارہ جمتی ہے، جس سے زمین پر برف کی سخت تہہ بن جاتی ہے اور ہرنوں کو خوراک کے لیے نیچے موجود کائی تک پہنچنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ نتیجتاً ہرنوں کی اموات اور بھوک کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
فن لینڈ کی سامی پارلیمنٹ کے نائب سربراہ توماس اسلاک یوسو کے مطابق یہ صرف ماحول کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی ثقافت، روزگار اور شناخت کے بقا کا سوال ہے۔ مقامی قبائل کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی فیصلوں میں انہیں محض متاثرہ فریق نہیں بلکہ برابر کے شراکت دار کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے





