پاکستان کی جوہری کمان میں بڑی تبدیلی، جنرل عامر رضا فور اسٹار جنرل مقرر، اس فیصلے کے کیا معنی ہیں؟

پاکستان کی جوہری کمان میں بڑی تبدیلی، جنرل عامر رضا فور اسٹار جنرل مقرر، اس فیصلے کے کیا معنی ہیں؟

پاکستان کی حکومت نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں عسکری ڈھانچے میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری بظاہر ایک معمول کی عسکری ترقی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے اسٹریٹیجک اور ادارہ جاتی مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ سے مراد پاکستان کی وہ عسکری کمان ہے جو ملک کے جوہری ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، اسٹریٹجک فورسز اور ان کی آپریشنل تیاری سے متعلق ذمہ داریوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت ہر وقت محفوظ، مؤثر اور قابلِ عمل رہے۔

پاکستان میں جوہری پالیسی کے اعلیٰ ترین فیصلے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) میں کیے جاتے ہیں، جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کرتے ہیں، جبکہ مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت بھی اس کا حصہ ہوتی ہے۔ اس اتھارٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد اور اسٹریٹجک فورسز کی عملی تیاری ایک خصوصی عسکری ڈھانچے کے ذریعے یقینی بنائی جاتی ہے، جس کی کمان اب جنرل عامر رضا کے سپرد کی گئی ہے۔

اس فیصلے کا دوسرا اہم پہلو فور اسٹار جنرل کا عہدہ ہے۔ عام طور پر پاکستان میں لیفٹیننٹ جنرل تین ستاروں کا افسر ہوتا ہے، جبکہ چار ستاروں کا عہدہ صرف آرمی چیف کے پاس ہوتا تھا۔ تاہم قانون اور عسکری روایت میں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی فور اسٹار جنرل ہو۔ دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً امریکہ میں، ایک ہی وقت میں متعدد فور اسٹار جنرل مختلف اہم عسکری کمانوں کی سربراہی کرتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ماضی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف دونوں چار ستاروں کے افسر رہے ہیں۔ اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل بنانا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ حکومت نے پاکستان کی اسٹریٹجک فورسز کی قیادت کو مزید ادارہ جاتی اہمیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال، بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک توازن، میزائل اور جوہری صلاحیتوں کی مسلسل جدید کاری، اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس شعبے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دی ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت اور فوج ممکنہ طور پر اسٹریٹجک فورسز کی قیادت کو مزید مضبوط، خودمختار اور اعلیٰ سطح پر منظم کرنا چاہتی ہیں۔

یہ تقرری اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ چیف آف جنرل اسٹاف جیسے انتہائی اہم عہدے سے براہِ راست ایک ایسے منصب پر تعیناتی کی گئی ہے جو پاکستان کی قومی سلامتی کے سب سے حساس شعبے سے وابستہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں روایتی جنگی تیاری کے ساتھ ساتھ جوہری مزاحمتی صلاحیت (Nuclear Deterrence) اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کو بھی مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔

مختصراً، جنرل عامر رضا کی ترقی صرف ایک شخص کی ترقی نہیں بلکہ پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں اسٹریٹجک فورسز کے بڑھتے ہوئے کردار اور ان کی ادارہ جاتی اہمیت کی عکاس سمجھی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ اس امر کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان اپنی جوہری کمان اور اس سے متعلق آپریشنل نظام کو بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی سکیورٹی ماحول کے مطابق مزید مضبوط اور مؤثر بنانا چاہتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید