مصنوعی ذہانت کے علمبردار نے اپنے نصف اے آئی ایجنٹس ختم کر دیے، کہا: گریجویٹ کو تربیت دینا آسان تھا

مصنوعی ذہانت کے علمبردار نے اپنے نصف اے آئی ایجنٹس ختم کر دیے، کہا: گریجویٹ کو تربیت دینا آسان تھا

مصنوعی ذہانت کے شعبے کی معروف ماہر سول رشیدی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے لیے استعمال کیے جانے والے تقریباً نصف اے آئی ایجنٹس کو ختم کر دیا، کیونکہ ان کی کارکردگی غیر قابلِ اعتماد تھی اور انہیں درست سمت میں رکھنے میں انسانی وقت زیادہ ضائع ہو رہا تھا۔

سول رشیدی نے گزشتہ 15 برسوں میں بڑی عالمی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت کے نظام نافذ کیے ہیں۔ وہ 2016 میں دنیا کی ابتدائی چیف اے آئی افسران میں شامل تھیں اور آئی بی ایم کے واٹسن منصوبے کے آغاز میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔

رشیدی کے مطابق جن اے آئی ایجنٹس کو انہوں نے ہٹایا، وہ غیر متوقع نتائج دیتے تھے۔ ان کی نگرانی، غلطیوں کی اصلاح اور بار بار رہنمائی کرنا اتنا وقت طلب ہو گیا تھا کہ کسی نئے گریجویٹ یا ابتدائی کیریئر کے ملازم کو تربیت دینا زیادہ آسان محسوس ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اگرچہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لیکن انہیں بڑے پیمانے پر کاروباری استعمال میں لانے کے لیے اب بھی قابلِ اعتماد کارکردگی، نگرانی اور واضح ذمہ داری کے نظام کی ضرورت ہے۔

مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف طاقتور ماڈلز بنانے میں نہیں بلکہ ایسے نظام تیار کرنے میں ہے جو حقیقی دنیا کے کاموں میں مسلسل، محفوظ اور قابلِ بھروسا نتائج فراہم کر سکیں

قومی خبریں سے مزید