ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے جنم لینے والی تحریک، بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج کی نئی علامت بن گئی

ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے جنم لینے والی تحریک، بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج کی نئی علامت بن گئی

بھارت میں 30 سالہ سیاسی ابلاغ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نوجوانوں کی ایک ابھرتی ہوئی احتجاجی تحریک کا نمایاں چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں، جسے وزیرِاعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت مخالف سب سے بڑی نوجوان تحریک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی جب دیپکے نے مایوسی کے عالم میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صرف چھ الفاظ پر مشتمل ایک پوسٹ کی: “اگر تمام کاکروچ ایک ہو جائیں تو کیا ہوگا؟” یہ جملہ سپریم کورٹ کے جج سوریہ کانت کے اس بیان کے ردعمل میں لکھا گیا تھا، جس میں انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو “کاکروچ” سے تشبیہ دی تھی۔ بعد ازاں امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر عوامی غصے نے اس آن لائن مہم کو ملک گیر احتجاجی تحریک میں بدل دیا، جو نوجوانوں میں بے روزگاری، امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت سمجھی جا رہی ہے

قومی خبریں سے مزید