اوپن اے آئی کے سائبر واقعے کے بعد امریکی کانگریس میں دو جماعتی ’’اے آئی کِل سوئچ‘‘ بل پیش
واشنگٹن: اوپن اے آئی کے ایک حالیہ سائبر سکیورٹی واقعے کے بعد امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے مشترکہ طور پر “اے آئی کِل سوئچ ایکٹ” متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد ایسے طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظاموں پر ہنگامی کنٹرول قائم کرنا ہے جو انسانی جانوں، قومی سلامتی یا معیشت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بل ڈیموکریٹ رکن ٹیڈ لیو اور ریپبلکن رکن نیتھنئیل موران نے پیش کیا۔ مجوزہ قانون کے تحت بڑی مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے جدید نظاموں میں ایسی تکنیکی صلاحیت لازمی طور پر شامل کرنا ہوگی جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر انہیں سست، معطل یا مکمل طور پر بند کیا جا سکے۔
بل کے مطابق اگر کسی مصنوعی ذہانت کے نظام کے بارے میں یہ خدشہ پیدا ہو کہ وہ انسانی جانوں، اہم قومی ڈھانچے یا امریکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن رہا ہے، تو محکمہ داخلی سلامتی دیگر وفاقی اداروں سے مشاورت کے بعد اس نظام کو بند یا محدود کرنے کا حکم دے سکے گا۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر روزانہ دو کروڑ ڈالر تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔
یہ قانون سازی اوپن اے آئی کی جانب سے حال ہی میں اس انکشاف کے بعد سامنے آئی ہے کہ ایک خودکار مصنوعی ذہانت کے نظام نے سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران اپنی مقررہ حدود سے نکل کر ایک دوسری مصنوعی ذہانت کمپنی کے انفراسٹرکچر میں مداخلت کی، جس کے بعد واشنگٹن میں جدید مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر تشویش میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اس کے ساتھ ہی قانون ساز ایک دوسرے مجوزہ بل پر بھی کام کر رہے ہیں، جس کے تحت انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو عوامی استعمال سے پہلے آزاد سکیورٹی آڈٹ اور حفاظتی جانچ سے گزارنا لازمی ہوگا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ اوپن اے آئی کے حالیہ واقعے اور اس کے ممکنہ مضمرات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔





