خاموش قاتل کے خلاف عالمی جنگ: ماہرین کا انتباہ، ٹی بی کو روکنے کا نہیں بلکہ دنیا سے مٹانے کا وقت آگیا
بینکاک:دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت میں اضافے کا نام نہیں رہی بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے ایک نئے عالمی خطرے کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بدلتے موسم اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے درمیان کئی بیماریوں کے جراثیم بھی پہلے سے زیادہ مضبوط اور پھیلاؤ کے لیے زیادہ موزوں ہوتے جارہے ہیں۔ ان خطرات کے درمیان ایک پرانی مگر انتہائی خطرناک بیماری، تپ دق (ٹی بی)، ایک بار پھر عالمی صحت کے ایجنڈے کے مرکز میں آ گئی ہے۔
دنیا بھر کے ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ٹی بی اب صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایک خاموش عالمی بحران ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ٹی بی کو صرف قابو کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ اسے دنیا سے ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
یہ خیالات تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہونے والی اے پی اے سی۔ آئی آر آئی ڈی ایس کانفرنس میں سامنے آئے، جس کا انعقاد طبی ادارے روش نے ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پبلشرز (وان۔ انفرا) کے اشتراک سے کیا۔ کانفرنس میں ایشیا بحرالکاہل خطے سمیت دنیا بھر سے آنے والے ممتاز طبی ماہرین، محققین اور صحت کے شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
ماہرین نے کہا کہ ٹی بی کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ بیماری خاموشی سے سفر کرتی ہے۔ ایک متاثرہ شخص کئی ہفتوں یا مہینوں تک اس بات سے بے خبر رہ سکتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی اس بیماری کے خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یہی خاموش منتقلی ٹی بی کو عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بناتی ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرنے والے ماہرین میں پاکستان سے ڈاکٹر کنیز فاطمہ، بھارت سے ڈاکٹر سبرامانین سوامی ناتھن، انڈونیشیا سے ڈاکٹر ارلینا برہان، فلپائن سے ڈاکٹر روگایا ڈبلیو کالاپس اور روش کے ڈائریکٹر سرجیو کارمونا شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ ٹی بی کے خلاف جنگ میں جدید تشخیص، بروقت علاج اور عوامی آگاہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ماہرین نے ٹی بی کا موازنہ کووڈ۔19 سے کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کووڈ نے دنیا کو چند ماہ میں متاثر کیا، لیکن ٹی بی ایک ایسی بیماری ہے جو دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ لاکھوں زندگیاں متاثر کر رہی ہے۔ اس کی منتقلی کا انداز ایسا ہے کہ کئی مریض اس وقت تک تشخیص نہیں ہو پاتے جب تک بیماری کافی آگے نہ بڑھ جائے۔
طبی ماہرین نے خاص طور پر کھانسی کو نظر انداز نہ کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل کھانسی کو معمولی مسئلہ سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے، کیونکہ صحت مند انسان میں طویل عرصے تک رہنے والی کھانسی کسی اندرونی مسئلے کی علامت ہوسکتی ہے اور فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں بھی متعدی بیماریوں کے مستقبل کو متاثر کررہی ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، ماحولیاتی دباؤ اور انسانی نقل و حرکت میں اضافہ بیماریوں کے پھیلاؤ کے نئے راستے پیدا کر رہے ہیں، جس کے باعث ٹی بی جیسے امراض کے خلاف عالمی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے 2030 تک ٹی بی کے باعث ہونے والی بیماریوں میں 90 فیصد اور اموات میں 80 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا، فلپائن اور دیگر ممالک کو صحت کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
کانفرنس میں ٹی بی کی تشخیص کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کو بھی اجاگر کیا گیا۔ روش کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی تشخیصی ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ٹی بی کی شناخت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید نظام میں بعض ٹیسٹوں کے نتائج صرف 24 گھنٹوں کے اندر حاصل کیے جاسکتے ہیں، جبکہ مخصوص مشینیں چند منٹوں میں ابتدائی نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
طبی ماہرین نے کہا کہ ٹی بی کے مریضوں کو بیماری چھپانے کے بجائے بروقت علاج شروع کرنا چاہیے، کیونکہ یہ بیماری قابل علاج ہے۔ اگر کسی شخص میں ٹی بی کی تصدیق ہوجائے تو اس کے قریبی رابطے میں رہنے والے افراد کا معائنہ بھی ضروری ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔
کانفرنس میں تھائی لینڈ کے معروف پاپ گلوکار چاون جگ چٹ سم بون نے اپنی ذاتی کہانی بھی بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود ٹی بی کا شکار ہوئے، لیکن خوفزدہ ہونے کے بجائے علاج کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق بیماری کے دوران ان کے خاندان کے 30 سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 6 افراد میں ٹی بی کی تشخیص ہوئی، جن میں ان کا 10 سالہ بیٹا بھی شامل تھا۔ ان افراد کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔
علاج کے بعد صحت یاب ہونے والے گلوکار نے کہا کہ ٹی بی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا بروقت علاج ممکن ہے۔
دنیا کے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں اصل کامیابی صرف نئی بیماریوں سے لڑنے میں نہیں بلکہ ان پرانے خاموش دشمنوں کو شکست دینے میں ہوگی جو آج بھی لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ٹی بی کے خلاف جنگ اب صرف اسپتالوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ عالمی شعور، جدید سائنس اور اجتماعی عزم کا امتحان بن چکی ہے





