امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کرکے صدر ٹرمپ کو ایک اور سیاسی دھچکا دے دیا
واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر ایک مرتبہ پھر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایسی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں صدر کو ہدایت کی گئی ہے کہ کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ایران یا اس کی حکومت اور مسلح افواج کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔
قرارداد 208 کے مقابلے میں 214 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس موقع پر چار ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی جماعت کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے ڈیموکریٹک ارکان کا ساتھ دیا، جسے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرمیلا جیاپال نے پیش کی تھی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر امریکہ، کانگریس کی واضح اجازت کے بغیر، ایران، اس کی حکومت یا اس کی مسلح افواج کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی، خصوصاً زمینی افواج کے استعمال یا قبضے کی غرض سے فوج بھیجنے کا اختیار استعمال نہیں کر سکتے۔
قرارداد کی حمایت کرنے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن کے ٹام بیریٹ، پنسلوانیا کے برائن فٹزپیٹرک، اوہائیو کے وارن ڈیوڈسن اور کینٹکی کے تھامس میسی شامل تھے، جنہوں نے اپنی جماعت سے ہٹ کر ووٹ دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس قرارداد کی قانونی حیثیت محدود ہے اور اس سے صدر کے اختیارات فوری طور پر ختم نہیں ہوتے، تاہم اسے کانگریس کی جانب سے ایک واضح سیاسی پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے لیے منتخب ایوان کی منظوری ناگزیر ہونی چاہیے۔
امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے اور فوجی کارروائیوں کی منظوری دینے کا بنیادی اختیار کانگریس کے پاس ہے، جبکہ صدر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہوتے ہیں۔ اسی آئینی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کانگریس وقتاً فوقتاً ایسی قراردادوں کے ذریعے اپنے اختیارات پر زور دیتی رہی ہے





