فاکس نیوز کے سروے نے مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے ریپبلکنز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، ڈیموکریٹس کو 7 پوائنٹس برتری، ٹرمپ کی مقبولیت تاریخی کم سطح کے قریب
امریکہ میں نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے فاکس نیوز کے تازہ ترین سروے نے سیاسی ماحول میں بڑی تبدیلی کے اشارے دیے ہیں۔ سروے کے مطابق امریکی ووٹرز موجودہ صورتحال سے ناخوش ہیں، بڑی تعداد میں لوگ نمایاں تبدیلی چاہتے ہیں، ڈیموکریٹس کے ووٹرز انتخابی میدان میں زیادہ متحرک نظر آ رہے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کی شرح اب بھی اپنی تاریخی کم ترین سطحوں کے قریب موجود ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق اگر آج ایوانِ نمائندگان کے انتخابات ہوتے تو 53 فیصد ووٹرز اپنے حلقے میں ڈیموکریٹ امیدوار کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے، جبکہ 46 فیصد ریپبلکن امیدوار کے حق میں جاتے۔ اس طرح ڈیموکریٹس کو 7 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق یہ فرق سروے کی ممکنہ غلطی کے دائرے سے بھی کچھ زیادہ ہے، جبکہ اپریل میں ڈیموکریٹس کو یہی برتری 5 پوائنٹس تھی۔
فاکس نیوز نے اس نتیجے کو خاص اہمیت دی ہے کیونکہ اس کے مطابق 53 فیصد حمایت کسی بھی جماعت کے لیے 1996 کے بعد اس کے عمومی ایوانی ووٹ سروے میں سب سے بلند شرح ہے۔
فاکس نیوز کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مڈ ٹرم انتخابات میں صرف سروے ہی فیصلہ نہیں کرتے، کیونکہ مقامی امیدواروں کی شخصیت، حلقے کی صورتحال، انتخابی تنظیم، ووٹرز کو گھروں سے نکالنے کی صلاحیت اور مقامی مسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی مؤقف ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے بھی سامنے آ رہا ہے کہ ماضی میں کئی مرتبہ قومی سروے انتخابات کے اصل نتائج کی درست تصویر پیش نہیں کر سکے۔
ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے پاس مضبوط انتخابی تنظیم موجود ہے، صدر ٹرمپ کے حامی ووٹرز انتہائی متحرک ہیں، اور کانگریس کی نشستوں پر مقابلہ قومی مقبولیت کے بجائے مقامی سطح کے عوامل پر زیادہ منحصر ہوتا ہے۔
تاہم فاکس نیوز کے تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر قومی سطح پر فرق بہت زیادہ بڑھ جائے تو صرف تنظیمی طاقت اور امیدواروں کی شخصیت سے اس خلا کو ختم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں جب ایک جماعت کو مسلسل کئی پوائنٹس کی برتری حاصل ہو تو اس کا اثر کئی نشستوں پر پڑ سکتا ہے۔
سروے میں ڈیموکریٹس کے ووٹرز انتخابی جوش میں بھی آگے نظر آئے۔ 68 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز نے کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے انتہائی متحرک ہیں، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں یہ شرح 57 فیصد رہی۔ اس طرح ڈیموکریٹس کو اس معاملے میں 11 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔
تاہم ریپبلکن پارٹی کے اندر صدر ٹرمپ کے حامی ووٹرز زیادہ متحرک دکھائی دیے۔ سروے کے مطابق 66 فیصد میگا ریپبلکنز نے کہا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے انتہائی پرجوش ہیں، جبکہ غیر میگا ریپبلکنز میں یہ شرح صرف 41 فیصد رہی۔
فاکس نیوز کے سروے میں عوامی مسائل پر بھی ڈیموکریٹس کو کئی اہم شعبوں میں برتری حاصل رہی۔ ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو آمدنی میں عدم مساوات کے مسئلے پر 22 پوائنٹس، صحت عامہ پر 21 پوائنٹس، مہنگائی پر 10 پوائنٹس، معیشت پر 9 پوائنٹس اور خارجہ پالیسی پر 7 پوائنٹس کی برتری دی۔
ریپبلکن پارٹی کو صرف جرائم کے مسئلے پر 7 پوائنٹس کی برتری حاصل رہی۔ حکومتی اخراجات کے معاملے میں ڈیموکریٹس کو 3 پوائنٹس کی معمولی سبقت ملی، جبکہ قومی سلامتی پر ریپبلکنز صرف 2 پوائنٹس آگے رہے۔
امیگریشن، جو گزشتہ انتخابات میں ریپبلکنز کا مضبوط موضوع سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی تبدیلی نظر آئی۔ فاکس نیوز کے مطابق اپریل میں ریپبلکن پارٹی کو اس مسئلے پر 8 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی، لیکن تازہ سروے میں ڈیموکریٹس ایک پوائنٹ آگے نکل گئے ہیں۔
سروے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ تقریباً 40 فیصد امریکی ووٹرز ملک میں “بڑی” یا “انقلابی” تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ ووٹرز اب ریپبلکن پارٹی کو اشرافیہ کے مفادات سے جڑا ہوا سمجھ رہے ہیں، جو روایتی سیاسی تصور کے برعکس ہے کیونکہ ماضی میں ریپبلکنز خود کو عام امریکیوں کی جماعت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی سروے مثبت تصویر پیش نہیں کرتا۔ فاکس نیوز کے مطابق ان کی ملازمت کی منظوری کی شرح اب بھی ریکارڈ کم سطح کے قریب ہے، اور معیشت، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات جیسے معاملات پر عوامی ناراضی ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق مڈ ٹرم انتخابات میں حکمران جماعت کو تاریخی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر صدر کی مقبولیت کم ہو، معیشت پر عوام ناراض ہوں اور مخالف جماعت کو قومی سطح پر واضح برتری حاصل ہو تو نقصان زیادہ بڑھ سکتا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریپبلکن پارٹی اپنی تنظیمی طاقت، صدر ٹرمپ کے مضبوط حامی ووٹرز اور مقامی امیدواروں کے ذریعے اس فرق کو کم کر سکے گی، یا فاکس نیوز کے مطابق بڑھتا ہوا قومی رجحان مڈ ٹرم انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی کئی نشستوں کا رخ تبدیل کر دے گا





