چترال میں سڑک منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام سے نکالنے پر احتجاج، عوام کا دھرنے کا اعلان
چترال: بالائی چترال کی وادیٔ یارخون اور بروغل کے سیکڑوں رہائشیوں نے مستوج تا بروغل 157 کلومیٹر طویل سڑک منصوبے کو رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔
مظاہرین نے عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جیپوں اور موٹر سائیکلوں کے قافلے کی صورت میں مارچ شروع کیا، جو مختلف دیہات سے گزرتا ہوا ضلعی ہیڈکوارٹر بونی پہنچنے والا ہے۔ مقامی لوگوں نے مارچ کے شرکا کا استقبال کیا اور انہیں کھانے پینے سمیت دیگر سہولیات فراہم کیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور سابق ضلعی کونسل رکن محمد وزیر خان کی قیادت میں مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک منصوبے کو فوری طور پر اے ڈی پی میں شامل کر کے اس کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں۔
احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک علاقے کی ترقی، غربت کے خاتمے اور دور دراز وادیوں کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتیں بار بار وعدے کرنے کے باوجود منصوبے پر عملی پیش رفت نہیں کر سکیں۔
مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ بونی پہنچنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کے دفاتر کے باہر غیر معینہ مدت تک دھرنا دیا جائے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج پُرامن رہے گا۔
بالائی چترال کے ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج شہریوں کا جمہوری حق ہے اور انتظامیہ مارچ کو نہیں روکے گی۔ ان کے مطابق حکام عوامی شکایات کے حل کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔





