گوگل کی مصنوعی ذہانت سے پریشان بڑے ناشرین، مواد تک رسائی روکنے پر غور شروع
واشنگٹن: دنیا کے بڑے میڈیا ادارے گوگل کی مصنوعی ذہانت پر مبنی جوابی نظام کے باعث اپنی ویب سائٹوں کے مواد کے استعمال پر نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور ہو رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اے آئی سے تیار ہونے والے جوابات کے باعث ان کی ویب سائٹس پر آنے والے صارفین کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔
گِزموڈو کی رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی بڑے ناشرین گوگل کو اپنے مواد تک رسائی محدود کرنے کے مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ بعض ادارے تو مبینہ طور پر گوگل کے ویب کرالرز کو مکمل طور پر روکنے جیسے سخت اقدام پر بھی سوچ رہے ہیں۔
میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ گوگل کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام صارفین کو براہِ راست خلاصہ اور جواب فراہم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اصل خبر یا مضمون پڑھنے کے لیے متعلقہ ویب سائٹ تک کم پہنچتے ہیں۔ اس صورتحال سے اشتہارات، قارئین کی تعداد اور ڈیجیٹل آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
یہ تنازع دراصل مصنوعی ذہانت کے نئے دور میں مواد تیار کرنے والوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔ ناشرین چاہتے ہیں کہ اگر ان کے صحافتی مواد کو اے آئی ماڈلز کی تربیت یا جوابات تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو انہیں مناسب معاوضہ اور اختیار حاصل ہو۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں گوگل، مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں اور میڈیا اداروں کے درمیان یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے استعمال، ملکیت اور آمدنی کی تقسیم کے اصول کیا ہونے چاہئیں





