Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں چین کی پیش قدمی، ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نئی آزمائش

مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں چین کی پیش قدمی، ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نئی آزمائش

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا اور چین کے درمیان جاری مقابلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے امریکی برتری کو چیلنج کر رہی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کئی ماہ تک امریکا کی بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اپنے چینی حریفوں سے نمایاں طور پر آگے نظر آ رہی تھیں۔ امریکی اداروں کی جانب سے ایسے جدید ماڈلز متعارف کرائے گئے جو ویڈیو گیمز تیار کرنے، پیچیدہ ریاضی کے مسائل حل کرنے اور کمپیوٹر نظام میں چھپی سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے جیسی صلاحیتوں کے باعث توجہ کا مرکز بنے۔

تاہم حالیہ دنوں میں یہ برتری زیرِ بحث آ گئی ہے کیونکہ چین نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کئی نئے ماڈلز متعارف کرائے ہیں جنہیں ماہرین امریکا کے قریب پہنچنے والی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چینی کمپنیوں کے نئے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، جن میں مون شاٹ اے آئی کا “کیمی کے 3” اور علی بابا کا “کیو وین 3.8” شامل ہیں، جلد ہی زیادہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہونے کی توقع ہے۔ یہ ماڈلز ایسے صارفین بھی استعمال کر سکیں گے جن کے پاس انہیں چلانے کے لیے مناسب کمپیوٹر صلاحیت موجود ہو۔

دوسری جانب امریکا میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں کو حکومتی ضابطوں اور نگرانی کے پیچیدہ عمل کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے اور عالمی ٹیکنالوجی مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کاروباری یا سائنسی میدان کا معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ قومی سلامتی، معیشت اور عالمی طاقت کے توازن سے جڑا ہوا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے، جہاں امریکا اور چین کی مسابقت آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید