ٹرمپ کی ٹیرف فہرست میں شامل ہر چھ میں سے ایک مصنوعات کینیڈا کی برآمد ہی نہیں: حکام
اوٹاوا: کینیڈین حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مجوزہ ٹیرف فہرست میں شامل تقریباً ہر چھ میں سے ایک مصنوعات ایسی ہے جو دراصل کینیڈا کی برآمد نہیں ہے۔ اس انکشاف کے بعد امریکی ٹیرف پالیسی کی درستگی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
حکام کے مطابق بعض مصنوعات ایسی ہیں جو امریکہ میں کینیڈا کے راستے پہنچتی تو ہیں، لیکن ان کی اصل پیداوار کسی اور ملک میں ہوتی ہے۔ کینیڈین حکام کا مؤقف ہے کہ ایسی اشیا کو کینیڈین برآمدات میں شامل کرنا تجارتی اعداد و شمار کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے محصولات عائد کرنے کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ متاثر ہونے والی مصنوعات میں شراب، سیمنٹ، ہاکی اسٹکس، دودھ سے متعلق اشیا اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
کینیڈین کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ محصولات نافذ ہوئے تو کئی صنعتوں پر دباؤ بڑھے گا، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ اقدام وسیع پیمانے پر تجارتی جنگ کے بجائے امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے۔





