Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

مرد مخالف رجحانات اور شادی سے دوری کی بحث، ماہرین کے مطابق بڑھتی تقسیم کا نقصان دونوں جنسوں کو ہو سکتا ہے

مرد مخالف رجحانات اور شادی سے دوری کی بحث، ماہرین کے مطابق بڑھتی تقسیم کا نقصان دونوں جنسوں کو ہو سکتا ہے

امریکا میں شادی، تعلقات اور مرد و خواتین کے درمیان بڑھتے فاصلے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مردوں کے خلاف بڑھتے ہوئے منفی رجحانات اور شادی سے دوری کی ثقافت بالآخر خواتین سمیت پورے معاشرے کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق یو ایس اے ٹوڈے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کالم نگار اِن گرڈ جیک نے اس رجحان کو ’’ہیٹرو پیسِمزم‘‘ قرار دیا، جس سے مراد مردوں کے ساتھ تعلقات اور ازدواجی زندگی کے بارے میں خواتین میں بڑھتی ہوئی مایوسی، بداعتمادی اور منفی جذبات ہیں۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، خاص طور پر ٹک ٹاک پر پھیلنے والے بعض رجحانات، جن میں طلاق کے بعد زندگی کو بہتر بنانے کے مظاہرے اور مرد مخالف تحریری مواد شامل ہیں، مردوں اور خواتین کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر رہے ہیں۔

تجزیہ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ بعض خواتین کے منفی تجربات حقیقی ہو سکتے ہیں اور تعلقات میں مسائل موجود ہیں، لیکن تمام مردوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا یا شادی کے ادارے کو مکمل طور پر مسترد کرنا طویل مدت میں سماجی تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرینِ سماجیات کے مطابق جدید دور میں شادی کے رجحانات میں تبدیلی کے کئی عوامل شامل ہیں، جن میں معاشی دباؤ، بدلتی ہوئی ترجیحات، خواتین کی بڑھتی ہوئی خود مختاری، تعلقات کے بارے میں نئے تصورات اور مرد و خواتین کے کردار میں تبدیلی شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ تعلقات میں کامیابی کے لیے کسی ایک جنس کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے باہمی احترام، اعتماد اور بہتر رابطے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مردوں اور خواتین کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم معاشرے میں تنہائی اور عدم اعتماد کو بڑھا سکتی ہے۔

یہ بحث اس بڑے سوال کو دوبارہ سامنے لے آئی ہے کہ جدید معاشرے میں محبت، شادی اور خاندانی نظام کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں اور آنے والی نسلیں تعلقات کو کس انداز میں دیکھیں گی

قومی خبریں سے مزید