Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

چیٹ جی پی ٹی کے طبی مشورے سے جان کو خطرہ لاحق ہونے کا الزام، فلوریڈا کے شہری کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ

چیٹ جی پی ٹی کے طبی مشورے سے جان کو خطرہ لاحق ہونے کا الزام، فلوریڈا کے شہری کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ

امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک شہری نے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے طبی مشورے نے اسے بروقت علاج حاصل کرنے سے روکا، جس کے باعث وہ ایک جان لیوا طبی صورتحال کے قریب پہنچ گیا۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق سابق پادری اسکاٹ ونٹرز نے سان فرانسسکو کاؤنٹی سپیریئر کورٹ میں دائر مقدمے میں دعویٰ کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان علامات کے بارے میں غلط رہنمائی دی جو بعد میں پھیپھڑوں میں خون کے لوتھڑے بننے کی خطرناک بیماری، یعنی پلمونری ایمبولزم، سے منسلک ثابت ہوئیں۔

ونٹرز کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام نے اسے ایسی معلومات فراہم کیں جن کی وجہ سے وہ فوری طبی مدد لینے کے بجائے انتظار کرتا رہا، اور یہ صورتحال اس کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے محض معلومات فراہم کرنے کی حد عبور کرتے ہوئے ایسے مشورے دیے جو عملی طور پر طبی رہنمائی کے مترادف تھے، حالانکہ کسی بھی طبی تشخیص یا علاج کا فیصلہ تربیت یافتہ ڈاکٹر ہی کر سکتے ہیں۔

درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اوپن اے آئی نے صارفین کے تحفظ کے لیے کافی حفاظتی اقدامات نہیں کیے اور صارفین کی مصروفیت اور کاروباری مفادات کو عوامی تحفظ پر ترجیح دی۔

اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ چیٹ جی پی ٹی طبی ماہرین کا متبادل نہیں ہے اور اسے اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ بیماری کی تشخیص کرے یا ڈاکٹر کی جگہ فیصلہ دے۔

یہ مقدمہ اس وسیع بحث کا حصہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام، خاص طور پر صحت کے شعبے میں استعمال ہونے والے چیٹ بوٹس، صارفین کو معلومات فراہم کرتے وقت کس حد تک ذمہ دار ہوں گے اور ان کے لیے حفاظتی اصول کیسے بنائے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت صحت سے متعلق معلومات تک رسائی آسان بنا سکتی ہے، لیکن سنگین علامات کی صورت میں انسانی ڈاکٹر کی تشخیص اور فوری طبی امداد اب بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے

قومی خبریں سے مزید