بھارت میں پلاسٹک کرنسی کی تیاری پر غور، کیا کاغذی نوٹوں کا دور ختم ہونے والا ہے؟

بھارت میں پلاسٹک کرنسی کی تیاری پر غور، کیا کاغذی نوٹوں کا دور ختم ہونے والا ہے؟

بھارت میں ریزرو بینک آف انڈیا نے پلاسٹک یا پولیمر کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی جانب ایک اور قدم بڑھایا ہے، جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا پلاسٹک کے نوٹ روایتی کاغذی کرنسی کا بہتر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی 5 بڑی معیشتوں میں شامل بھارت اب بھی پلاسٹک کرنسی کے تجربے پر غور کر رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا تقریباً 3 دہائیاں قبل مکمل طور پر پولیمر نوٹوں کا نظام متعارف کرا چکا ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً 60 ممالک کسی نہ کسی شکل میں پلاسٹک کرنسی استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک یا پولیمر سے بنے نوٹ روایتی کپاس پر مبنی کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پولیمر نوٹ کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں 2.5 سے 4 گنا زیادہ عرصے تک استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس سے بار بار نئے نوٹ چھاپنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

پولیمر کرنسی کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ پانی، نمی اور گندگی سے زیادہ محفوظ رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں جدید حفاظتی خصوصیات شامل کرنا بھی آسان ہوتا ہے، جس سے جعلی نوٹوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک نوٹوں کی تیاری ابتدائی مرحلے میں روایتی کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر نئے نوٹوں کی تیاری، مشینری میں تبدیلی اور عوام کو نئے نظام سے ہم آہنگ کرنا بھی ایک چیلنج ہوگا۔

بھارت میں اس سے پہلے بھی محدود پیمانے پر پلاسٹک نوٹ کے تجربات کی بات سامنے آتی رہی ہے، لیکن مکمل تبدیلی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ریزرو بینک اب اس کے فوائد، لاگت اور عملی مشکلات کا جائزہ لے رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق بھارت جیسے بڑے ملک میں جہاں اربوں نوٹ گردش میں ہیں، کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ صرف مضبوطی اور لاگت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ماحول، عوامی سہولت اور طویل مدتی مالی فائدے کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

اگر بھارت پولیمر کرنسی اپنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ دنیا کے سب سے بڑے نقدی استعمال کرنے والے ممالک میں سے ایک میں کرنسی کے نظام کی بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید