جنتر منتر احتجاج میں 13 سالہ راجستھانی بچے کی شرکت، مقصد نہیں سمجھتا تھا مگر خالہ کے ساتھ سفر پر آ گیا
دہلی کے جنتر منتر پر شہری انصاف کے مطالبات سے متعلق احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کے درمیان ایک 13 سالہ بچے نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ راجستھان سے تعلق رکھنے والا یہ کم عمر لڑکا اپنی خالہ کے ساتھ رات بھر ٹرین کا سفر کرکے احتجاج میں پہنچا، تاہم اس نے اعتراف کیا کہ وہ اس مظاہرے کے مکمل مقصد کو نہیں سمجھتا تھا۔
بچے نے بتایا کہ وہ کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں آیا بلکہ اپنی خالہ کے ساتھ سفر کرنے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے آیا تھا۔ اس کے مطابق اس کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا کہ وہ اتنے بڑے اجتماع کا حصہ بن رہا ہے۔
احتجاج میں شریک لوگوں کے مطابق اس بچے کی موجودگی نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بڑے سیاسی اور سماجی معاملات کس طرح عام خاندانوں اور نوجوان نسل تک پہنچ رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی ایسی شرکت جذباتی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے، تاہم سیاسی احتجاج میں کم عمر افراد کی شمولیت پر سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔
جنتر منتر پر ہونے والا یہ احتجاج بھارت میں تعلیمی نظام، امتحانات اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق جاری بحث کا حصہ ہے۔ مظاہرین حکومت سے شفافیت، جواب دہی اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
13 سالہ بچے کا واقعہ احتجاج کے سیاسی مطالبات سے زیادہ انسانی پہلو کے طور پر سامنے آیا، جہاں ایک کم عمر لڑکا کسی نظریاتی مقصد سے زیادہ اپنے خاندان کے فرد کا ساتھ دینے کے جذبے کے تحت اس اجتماع کا حصہ بنا





