مصنوعی ذہانت کا خوف ٹیکنالوجی ملازمین کو یونین سازی کی طرف دھکیل رہا ہے، سلیکون ویلی کی پرانی ثقافت بدلنے لگی
سان فرانسسکو: کئی دہائیوں تک ٹیکنالوجی کی صنعت کو ایسی جگہ سمجھا جاتا رہا جہاں مزدور یونینوں کے لیے جگہ نہیں تھی، لیکن مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ نے اس سوچ کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین اجتماعی مذاکرات اور یونین سازی کو اپنے مستقبل کے تحفظ کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق ماضی میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے ملازمین خود کو روایتی مزدور طبقے سے مختلف سمجھتے تھے۔ انہیں زیادہ تنخواہیں، بہترین مراعات، لچکدار کام کے اوقات، مفت کھانے اور آرام دہ دفتری ماحول جیسی سہولتیں حاصل تھیں، جس کی وجہ سے یونین بنانے کا خیال زیادہ مقبول نہیں تھا۔
سلیکون ویلی میں ایک طویل عرصے تک یہ تصور موجود رہا کہ ہنرمند انجینئرز اور پروگرامرز کمپنیوں کے اندر غیر معمولی طاقت رکھتے ہیں۔ کھلے ماحول، غیر رسمی لباس اور فلیٹ انتظامی ڈھانچے نے ملازمین کو یہ احساس دیا کہ وہ روایتی کارپوریٹ نظام کے بجائے ایک نئی کام کی ثقافت کا حصہ ہیں۔
لیکن مصنوعی ذہانت کی آمد نے صورتحال بدل دی ہے۔ ملازمین کو خدشہ ہے کہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے بڑی تعداد میں کام خودکار بنا سکتی ہیں، جس سے ملازمتوں، کرداروں اور پیشہ ورانہ تحفظ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اسی وجہ سے کچھ ٹیکنالوجی کارکن اب اجتماعی طاقت کے ذریعے کمپنیوں سے زیادہ شفافیت، روزگار کے تحفظ، مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اصول اور فیصلوں میں ملازمین کی شمولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت صرف کاروباری طریقوں کو نہیں بدل رہی بلکہ کام کی جگہ پر طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ وہ ملازمین جو کبھی یونین کو غیر ضروری سمجھتے تھے، اب اسے مستقبل کے غیر یقینی حالات سے نمٹنے کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں کی نوعیت، تنخواہوں اور کام کے طریقوں میں بڑی تبدیلیاں آئیں تو ٹیکنالوجی کا شعبہ بھی روایتی صنعتوں کی طرح اجتماعی مذاکرات اور مزدور تنظیموں کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے





