یوکرین میں بڑی فوجی تبدیلیاں، صدر زیلنسکی نے آرمی چیف کو بھی عہدے سے ہٹا دیا
کیف: یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے ملک کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل اولیکساندر سرسکی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، جس سے یوکرین کی اعلیٰ فوجی قیادت میں جاری بڑے پیمانے کی تبدیلیوں کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔
صدر زیلنسکی نے جنرل سرسکی کی جگہ میجر جنرل میخائیلو ڈراپاتی کو نیا آرمی چیف مقرر کیا ہے۔ وہ اس سے قبل یوکرین کی مشترکہ افواج کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی صدر زیلنسکی نے وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف کو بھی اچانک عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ فیڈوروف کو روس کے خلاف یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون کارروائیوں کی حکمتِ عملی تیار کرنے والی اہم شخصیت سمجھا جاتا تھا، اور انہیں ان کامیابیوں کا بڑا معمار قرار دیا جاتا رہا ہے۔
جنرل اولیکساندر سرسکی فروری 2024 سے یوکرین کی مسلح افواج کی قیادت کر رہے تھے۔ انہیں صدر زیلنسکی کا قریبی اور وفادار فوجی کمانڈر تصور کیا جاتا تھا، جبکہ ان کے اندازِ قیادت کو سابق سوویت فوجی طرزِ کمان سے مشابہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
سیاسی اور عسکری مبصرین کے مطابق یہ تقرریاں اور برطرفیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یوکرینی قیادت روس کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے اپنی عسکری حکمتِ عملی اور کمانڈ ڈھانچے کو ازسرِ نو تشکیل دے رہی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران اعلیٰ فوجی قیادت میں مسلسل تبدیلیاں فوج کے اندر استحکام اور فیصلہ سازی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں





