ایران جنگ پر امریکی خزانے سے 37.5 ارب ڈالر خرچ، کانگریس میں شدید سوالات، ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا
واشنگٹن: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک امریکہ 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جبکہ پینٹاگون نے اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید ہنگامی فنڈز کی درخواست بھی کر دی ہے۔
منگل کو کانگریس کی سماعت کے دوران وزیرِ دفاع پہلی مرتبہ ان اراکینِ کانگریس کے سامنے پیش ہوئے جنہوں نے ایران پر دوبارہ شروع ہونے والی شدید بمباری اور اس کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ پر سخت سوالات اٹھائے۔ متعدد قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جنگ کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ امریکی عوام مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
پینٹاگون نے آئندہ مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1.5 کھرب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی بھی درخواست کی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ ایران سمیت مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں اور دفاعی تیاریوں پر خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں صرف چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت انتخابی مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے ایران جنگ کو اپنی انتخابی مہم کا اہم موضوع بنا لیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اربوں ڈالر بیرونِ ملک جنگوں پر خرچ کرنے کے بجائے حکومت کو مہنگائی، رہائش، صحت، تعلیم اور امریکی شہریوں کے معاشی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، اور ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں ایران کی فوجی صلاحیت اور اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے اور اس کی مالی لاگت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو یہ نہ صرف امریکی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے بلکہ آنے والے انتخابات میں بھی ایک فیصلہ کن سیاسی مسئلہ بن سکتی ہے





