روزانہ پیٹرول کی قیمت: پاکستانی معیشت کے لیے ایک نیا امتحان(تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری)حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ روزانہ لیا جائے گا اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے مطابق انہیں کم یا زیادہ کیا جائے گا۔ بظاہر یہ ایک جدید، شفاف اور منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ معاشی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کے ان عملی اور معاشی اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جو روزانہ قیمتوں کی تبدیلی سے پوری قومی معیشت پر مرتب ہوں گے؟پاکستان نہ امریکہ ہے، نہ کینیڈا اور نہ ہی کوئی ایسا ترقی یافتہ ملک جہاں آبادی کی بڑی اکثریت اپنی ذاتی گاڑیوں میں سفر کرتی ہو، آمدنی کا معیار بلند ہو اور کاروباری نظام ایسے جھٹکوں کو آسانی سے برداشت کر سکے۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے عوامی ذرائع نقل و حمل پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار ہی ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہے۔ یہاں پیٹرول کی قیمت میں تبدیلی صرف گاڑی کا خرچ نہیں بڑھاتی بلکہ سبزی سے لے کر آٹے تک، اسکول وین سے لے کر مال برداری تک، پوری معیشت کی لاگت کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے جو پالیسی ترقی یافتہ ممالک میں قابلِ عمل ہو سکتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ پاکستان جیسے حالات میں بھی یکساں نتائج دے۔یہ صرف پیٹرول پمپ پر درج ایک نئی قیمت کا معاملہ نہیں۔ یہ فیصلہ ملک کے ہر شعبے کو متاثر کرے گا۔ ذرائع نقل و حمل، صنعت، زراعت، تجارت، تعمیرات، اشیائے خورونوش، تعلیمی ادارے، رسد و ترسیل کا نظام، حتیٰ کہ ہر گھر کا ماہانہ خرچ بھی اس سے براہِ راست متاثر ہوگا۔ معیشت صرف اس بات پر نہیں چلتی کہ قیمت کتنی ہے، بلکہ اس پر بھی چلتی ہے کہ قیمت کتنی مستحکم اور قابلِ پیش بینی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل پوری معیشت کی شہ رگ ہیں۔ اگر اس شہ رگ میں ہر روز اتار چڑھاؤ پیدا ہوگا تو اس کا اثر صرف گاڑیوں کے ٹینک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے معاشی جسم میں محسوس ہوگا۔سوچیے، ایک ٹیکسی یا رکشہ ڈرائیور ہر صبح اپنی گاڑی کے مالک سے اس دن کا کرایہ طے کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسی حساب سے پورا دن محنت کرنے نکلتا ہے۔ لیکن اگر دن کے دوران ہی پیٹرول کی قیمت بڑھ جائے تو اس کا سارا حساب کتاب درہم برہم ہو جاتا ہے۔ نہ وہ مالک سے طے شدہ کرایہ کم کروا سکتا ہے اور نہ ہی ہر مسافر سے اضافی رقم طلب کر سکتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سارا اضافی بوجھ اسی کی جیب پر آ پڑتا ہے۔اسی طرح اگر کسی ٹیکسی یا کوچ کا ڈرائیور صبح کسی لمبے سفر کے لیے مسافر سے کرایہ طے کرے اور شام تک پیٹرول مہنگا ہو جائے تو کیا وہ راستے میں گاڑی روک کر مسافر سے مزید کرایہ وصول کرے گا ؟ مثلاً کراچی سے گلگت، اسکردو یا چترال جانے والی ایک مسافر بس منزل تک پہنچنے میں دو دن لیتی ہے۔ اگر سفر کے دوران ڈیزل کی قیمت بڑھ جائے تو کیا بس کنڈکٹر راستے میں بس روک کر ہر مسافر سے اضافی کرایہ وصول کرے گا؟ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو اس اضافی لاگت کا بوجھ کون برداشت کرے گا؟ آخرکار یہی نقصان یا تو بس مالک کو اٹھانا پڑے گا یا پھر وہ پہلے ہی زیادہ کرایہ مقرر کرے گا تاکہ ممکنہ نقصان سے بچ سکے۔ اس کا نتیجہ عوام پر مزید مالی بوجھ کی صورت میں نکلے گا۔اسی طرح اسکول وین چلانے والا والدین سے ماہانہ فیس کس بنیاد پر طے کرے، جبکہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ آئندہ ہفتے ایندھن کی قیمت کیا ہوگی۔ ایک ٹرانسپورٹر کسی صنعت کار کو ایک شہر سے دوسرے شہر سامان پہنچانے کا کرایہ کیسے بتائے، جب ڈیزل کی قیمت روزانہ بدل رہی ہو؟ کریانہ فروش سپلائر کی دی ہوئی قیمت پر کیسے اعتماد کرے، جبکہ اگلے ہی دن نقل و حمل کی لاگت بڑھنے سے پورا حساب بدل سکتا ہو؟ کسان فصل بوتے وقت اپنی پیداواری لاگت کیسے نکالے، جبکہ ٹیوب ویل، ٹریکٹر، تھریشر اور مال برداری سب کا انحصار ایندھن پر ہے؟ شادی بیاہ کا انتظام کرنے والا شخص کئی ماہ بعد ہونے والی تقریب کا خرچ کس بنیاد پر بتائے؟ اور آخر میں، ایک متوسط طبقے کا خاندان اپنے ماہانہ اخراجات کی منصوبہ بندی کیسے کرے، جب ہر دوسرے دن پیٹرول مہنگا ہونے کے ساتھ دودھ، سبزی، آٹا، گوشت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت بھی بڑھنے لگے؟یہی وہ بے یقینی ہے جو کسی بھی معیشت کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ جب تاجر، صنعت کار، کسان اور ٹرانسپورٹر کو کل کی لاگت کا اندازہ نہ ہو تو وہ احتیاطاً اپنی قیمتیں زیادہ مقرر کرتے ہیں تاکہ ممکنہ نقصان سے بچ سکیں۔ یوں مہنگائی صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہتی بلکہ خاموشی سے پوری معیشت میں سرایت کر جاتی ہے۔کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد صرف کم قیمتیں نہیں ہوتیں بلکہ استحکام ہوتا ہے۔ ایک صنعت کار مہنگی بجلی یا مہنگے ایندھن کے باوجود کاروبار کر سکتا ہے، لیکن وہ ایسی فضا میں سرمایہ کاری نہیں کرتا جہاں اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کل اس کی لاگت کیا ہوگی۔ جب قیمتوں میں یقین باقی نہ رہے تو نہ طویل مدتی معاہدے ہوتے ہیں، نہ سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نہ ہی کاروباری منصوبہ بندی ممکن رہتی ہے۔پاکستان کی معیشت پہلے ہی مہنگائی، کمزور معاشی رفتار، محدود سرمایہ کاری اور مالی دباؤ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں روزانہ پیٹرول کی قیمت تبدیل کرنا کاروباری برادری، صنعت، زراعت اور عام شہری سب کے لیے ایک نئی بے یقینی پیدا کرے گا۔عالمی منڈی سے قیمتوں کا تعلق رکھنا ضروری ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بیرونی منڈی میں ہونے والی ہر روز کی تبدیلی فوراً عوام تک منتقل کر دی جائے۔ دنیا کے بہت سے ممالک قیمتوں میں استحکام کا ایسا نظام اختیار کرتے ہیں جس کے ذریعے روزانہ کے اتار چڑھاؤ کو جذب کیا جاتا ہے اور مناسب وقفوں کے بعد قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ اس سے حکومت بھی حقیقت پسندانہ قیمتیں برقرار رکھتی ہے اور کاروباری طبقہ بھی اعتماد کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں چلتی، بلکہ اعتماد سے چلتی ہے۔ اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حکومتی پالیسی میں تسلسل، استحکام اور پیش بینی ہو۔ اگر ہر صبح ایک تاجر، ایک ٹرانسپورٹر، ایک کسان، ایک صنعت کار اور ایک عام شہری یہ سوچ کر جاگے کہ آج پیٹرول کی نئی قیمت کیا ہوگی، تو نقصان صرف اس کی جیب کا نہیں ہوگا بلکہ پوری قومی معیشت اس بے یقینی کی قیمت ادا کرے گی۔حکومت کو چاہیے کہ وہ قیمتوں کو حقیقت سے جوڑے ضرور، مگر ساتھ ہی عوام، کاروباری طبقے اور قومی معیشت کو وہ استحکام بھی فراہم کرے جس کے بغیر ترقی کا کوئی سفر ممکن نہیں۔





