دہلی میں احتجاج کے دوران راہول گاندھی گرفتار، تعلیمی بحران نے مودی حکومت کو نئے سیاسی امتحان میں ڈال دیا

دہلی میں احتجاج کے دوران راہول گاندھی گرفتار، تعلیمی بحران نے مودی حکومت کو نئے سیاسی امتحان میں ڈال دیا

نئی دہلی: بھارت کی پارلیمان میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس کے مرکزی رہنما راہول گاندھی کو منگل کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان کے ساتھ کانگریس کی اہم رہنما پرینکا گاندھی، متعدد ارکانِ پارلیمان اور سینکڑوں کارکنوں کو بھی پولیس نے منتشر کرتے ہوئے گرفتار کیا
یہ احتجاج محض ایک سیاسی مظاہرہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بھارت میں ابھرنے والے ایک بڑے طلبہ بحران کا تسلسل ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اور نوجوان قومی سطح کے طبی داخلہ امتحان کے پرچے کے مبینہ افشا ہونے، امتحانی نظام میں بدعنوانی اور شفافیت کے فقدان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں نے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ متعدد افسوسناک خودکشیوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا
گزشتہ روز نئی دہلی میں پارلیمان کی جانب طلبہ کے مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ آنسو گیس، لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال کے نتیجے میں درجنوں نہیں بلکہ تقریباً 180 افراد، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے، زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے پورے بھارت میں شدید سیاسی ردِعمل پیدا کیا
اسی پس منظر میں کانگریس نے اعلان کیا کہ وہ طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ راہول گاندھی نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیا اور حکومت سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سیاسی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ حکومت نے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا ہے اور پارلیمان میں اس معاملے پر مؤثر بحث سے گریز کیا جا رہا ہے
دہلی پولیس نے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔ جیسے ہی کانگریس رہنما دھرنے پر بیٹھے، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو زبردستی ہٹا کر حراست میں لے لیا۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، جبکہ حکومتی مؤقف ہے کہ حساس علاقے میں بغیر اجازت احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی
دوسری جانب مودی حکومت کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں خامیوں کی تحقیقات جاری ہیں، بعض افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، دوبارہ امتحان بھی کرایا گیا ہے اور حکومت پارلیمان میں اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم حکومت نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک امتحانی پرچے کے مبینہ افشا ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں کی بے روزگاری، تعلیمی نظام پر عدم اعتماد اور حکومت کی جوابدہی جیسے وسیع تر سوالات سے جڑ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تحریک کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ حکومت اسے قانون و نظم کا مسئلہ قرار دے رہی ہے۔

بھارت میں آنے والے مہینوں میں یہ تنازع مودی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑے سیاسی محاذ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ نوجوانوں کا غصہ اب صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ پارلیمان اور قومی سیاست کا مرکزی موضوع بنتا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید