کوریائی بدھ بھکشوؤں کا کہنا ہے کہ ٹیکسلا مہایان بدھ مت کی روحانی جڑ ہے
ٹیکسلا: جنوبی کوریا سے آنے والے بدھ بھکشوؤں اور ماہرین کے وفد نے ٹیکسلا کو مہایان بدھ مت کی روحانی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قدیم گندھارا تہذیب کوریائی بدھ مت کی مذہبی شناخت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے بدھ ورثے کے تحفظ اور مذہبی سیاحت کے فروغ پر زور دیا۔
کوریائی بدھ رہنما جونگ لم نے ٹیکسلا کے قدیم دھرم راجیکا اسٹوپا کے دورے کے دوران کہا کہ گندھارا تہذیب صرف آثار قدیمہ کا مقام نہیں بلکہ ایک مقدس روحانی ورثہ ہے جہاں سے بدھ مت کی تعلیمات ایشیا کے مختلف علاقوں تک پہنچیں۔
85 سالہ بدھ راہب نے کہا کہ ٹیکسلا کے دورے کے دوران انہیں گہرا روحانی تعلق محسوس ہوتا ہے اور کوریائی بدھ مت کی مہایان روایات کی جڑیں اسی خطے سے ملتی ہیں۔
کوریائی وفد میں بدھ بھکشوؤں کے علاوہ اسکالرز اور محققین بھی شامل تھے، جنہوں نے ٹیکسلا میوزیم، گندھارا تہذیب کے آثار اور قدیم بدھ مقامات کا دورہ کیا۔ وفد کے ارکان نے پاکستان کے تاریخی ورثے کو عالمی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
پروفیسر لی جونگ نے کہا کہ کوریائی روایات کے مطابق بدھ مت کو کوریا پہنچانے والے راہب مارانانتھا کا تعلق قدیم پاکستان کے علاقے سے تھا، جس کی وجہ سے گندھارا تہذیب کوریائی عوام کے لیے خاص مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہے۔
گندھارا انٹرنیشنل ریسرچ سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر کیوسون پارک نے کہا کہ ایسے دورے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے اور مذہبی سیاحت کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکام نے کوریائی وفد کو ٹیکسلا کے آثار، بدھ نوادرات اور اس خطے کی قدیم تاریخ کے بارے میں بریفنگ دی۔ وفد نے گندھارا تہذیب کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا۔





