پاکستان کو اب تین محاذوں پر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، داخلی استحکام سب سے بڑا امتحان
اسلام آباد: پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایک طرف اسے خطے میں اہم اسٹریٹجک مقام فراہم کرتی ہے، تو دوسری جانب یہی محلِ وقوع کئی دہائیوں سے ملک کے لیے سنگین سکیورٹی چیلنجز کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔ ماضی میں پاکستان کو مشرق میں بھارت، مغرب میں غیر مستحکم افغانستان اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازع کے باعث مسلسل سکیورٹی خدشات کا سامنا رہا، جس نے قومی سلامتی کی پالیسیوں اور حکمت عملی کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔
تجزیے کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ ملک کو بیک وقت دو محاذوں پر جنگ یا کشیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم موجودہ حالات میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے اور پاکستان کو اب تین محاذوں پر بیک وقت خطرات درپیش ہیں۔
ان خطرات میں مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی، مغربی سرحد سے افغانستان کی جانب سے ہونے والے سرحد پار دہشت گرد حملے، اور ملک کے اندر دہشت گردی، عسکریت پسندی اور بدامنی شامل ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ صورت حال ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہے۔
داخلی سلامتی کے حوالے سے سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان کے دو صوبے بیک وقت شدید عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی مختلف علاقوں میں بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے، لیکن وہ محدود علاقوں تک تھے، جبکہ اب سکیورٹی چیلنجز کا دائرہ زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔
بدلتے ہوئے علاقائی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان اپنی داخلی سلامتی، سرحدی انتظام اور سیاسی استحکام کو مزید مضبوط بنائے، کیونکہ موجودہ دور میں قومی سلامتی کا انحصار صرف بیرونی دفاع پر نہیں بلکہ اندرونی استحکام پر بھی ہے





