وانگچک اکیلے نہیں، 21 مظاہرین تاحال بھوک ہڑتال پر قائم؛ طبیعت خراب ہونے کے باوجود احتجاج جاری

وانگچک اکیلے نہیں، 21 مظاہرین تاحال بھوک ہڑتال پر قائم؛ طبیعت خراب ہونے کے باوجود احتجاج جاری

بھارت میں سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت میں جاری احتجاج کے دوران کم از کم 21 مظاہرین اب بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وانگچک کو احتجاجی مقام سے ہٹائے جانے کے بعد ان کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور وہ اپنے مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری اس احتجاج میں شامل افراد کا تعلق ملک کے مختلف حصوں سے ہے۔ ان میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے تین کارکن بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی بھوک ہڑتال کا 21واں دن مکمل کر لیا ہے۔ طبی ماہرین نے مظاہرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آرام کریں، اپنی توانائی محفوظ رکھیں اور کم سے کم گفتگو کریں کیونکہ طویل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

سونم وانگچک، جو لداخ کے مسائل، آئینی تحفظات اور عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں، ہفتے کے روز اپنی بھوک ہڑتال کے 21ویں دن طبیعت خراب ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیے گئے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں احتجاجی مقام سے ہٹانے کا اقدام غیر قانونی تھا، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے کی گئی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وانگچک کو ہٹانے سے ان کا احتجاج ختم نہیں ہوگا بلکہ اب وہ مزید مضبوط ارادے کے ساتھ اپنے مطالبات پیش کریں گے۔ انہوں نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے اور کہا ہے کہ مبینہ طور پر مسابقتی امتحانات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

احتجاج میں شامل کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف ایک فرد یا ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں شفافیت، طلبہ کے حقوق اور حکومتی جواب دہی سے متعلق ہے۔

طویل بھوک ہڑتال کے باعث مظاہرین کی صحت کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، تاہم احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور حکومت سے اپنے مطالبات پر بات چیت کا مطالبہ کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید