کینیڈا کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

کینیڈا کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

اوٹاوا: ہر سال موسمِ گرما میں کینیڈا کے وسیع جنگلات میں بھڑکنے والی آگ نہ صرف ملک کے لیے بلکہ شمالی امریکہ کے بڑے حصے کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی بحران بن جاتی ہے۔ لاکھوں ایکڑ رقبہ جل کر خاکستر ہو جاتا ہے، ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنا پڑتے ہیں اور دھوئیں کے بادل سینکڑوں بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور تک فضا کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، خصوصی طیاروں اور ہزاروں تربیت یافتہ اہلکاروں کے باوجود ان آگوں پر قابو پانا کئی وجوہات کی بنا پر انتہائی دشوار ہوتا ہے۔

کینیڈا دنیا کے سب سے زیادہ جنگلات رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں کروڑوں ہیکٹر پر محیط جنگلات کا بڑا حصہ انتہائی دور دراز اور غیر آباد علاقوں میں واقع ہے۔ ان مقامات تک نہ سڑکیں پہنچتی ہیں اور نہ ہی زمینی امدادی ٹیمیں فوری طور پر رسائی حاصل کر سکتی ہیں، جس کے باعث آگ بجھانے کا کام زیادہ تر ہیلی کاپٹروں اور پانی برسانے والے خصوصی طیاروں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی، کم بارش، خشک نباتات اور تیز ہوائیں آگ کو غیر معمولی رفتار سے پھیلنے میں مدد دیتی ہیں۔ بعض اوقات آسمانی بجلی گرنے کے ایک ہی واقعے کے بعد مختلف علاقوں میں بیک وقت درجنوں یا سیکڑوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھتی ہے، جس سے امدادی وسائل پر غیر معمولی دباؤ پڑ جاتا ہے۔

ایک اور بڑی مشکل یہ ہے کہ بعض جنگلاتی علاقوں میں زمین کے نیچے موجود نامیاتی مادہ مسلسل سلگتا رہتا ہے۔ ایسی آگ بظاہر بجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے، لیکن زیرِ زمین ہفتوں یا مہینوں تک زندہ رہ سکتی ہے اور مناسب حالات ملنے پر دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے، جس سے اسے مکمل طور پر ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں میں سیکڑوں آگ بھڑک رہی ہوں تو تمام وسائل ہر مقام پر استعمال کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے ترجیح ان علاقوں کو دی جاتی ہے جہاں انسانی جانوں، رہائشی آبادیوں، شاہراہوں یا اہم تنصیبات کو فوری خطرہ لاحق ہو، جبکہ دور افتادہ جنگلات میں بعض اوقات قدرتی آگ کو خود ہی جلنے دیا جاتا ہے کیونکہ یہ جنگلات کے قدرتی ماحولیاتی نظام کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، طویل خشک موسم اور بارشوں میں کمی کے باعث جنگلات زیادہ آتش گیر ہو رہے ہیں، جس سے آگ لگنے کا موسم پہلے سے زیادہ طویل اور تباہ کن بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وہ بنیادی عوامل ہیں جن کی وجہ سے کینیڈا میں جنگلات کی آگ کو مکمل طور پر بجھانا اکثر کئی ہفتوں بلکہ بعض اوقات کئی مہینوں تک ممکن نہیں ہو پاتا، اور یہ آگیں ہر سال ماحول، معیشت اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں

قومی خبریں سے مزید